یاد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آ گئی

یاد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آ گئی

    حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد ایک دن حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے یاد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کہا۔

انطلق بنا الی ام ایمن رضی اللہ عنہا نزورھا کما کان رسول اللہ ؐ یزورھا

کہ چلیں حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا سے ملاقات کر آئیں کیونکہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ہاں تشریف لے جایا کرتے تھے ۔ لہذا ہمیں بھی جانا چاہئے۔

جب حضرات شیخین حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا کے ہاں پہنچے تو انہوں نے دیکھ کر یاد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں رونا شروع کر دیا۔ انہوں نے پوچھا۔

مایبکیک؟ اما تعلمین ان ما عند اللہ خیر لرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سلم۔

آپ کیوں روتی ہیں ؟ تمھیں علم نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے ہاں ایسے مقام پر ہیں۔ جو اس دنیا سے کہیں بہتر ہے۔

یہ سن کر آپ نے یاد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں فرمایا۔

انی اعلم ما عند اللہ تعالی خیر لرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ولکن ابکی ان الوحی قد انقطع من السمائ۔

یہ میں بھی جانتی ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعلیٰ مقام پر ہیں لیکن میں اس لئے روتی ہوں کہ ہم اللہ پاک کی عظیم نعمت وحی سے محروم ہو گئے۔ جو کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سبب سے صبح شام میسر آتی تھی (یاد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں )۔

جب ان حضرات نے یہ بات سنی۔

فجعلا ا یبکیان معہا۔

(سیدنا محمد رسول اللہ ، ۴۱۲ – بحوالہ مسلم)

تو ان دونوں نے بھی (یاد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) میں رونا شروع کر دیا

 

یاد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آ گئی


  ماخوذ از کتاب:  مشتاقان جمال نبوی کی کیفیات جذب و  مستی

مصنف :   بدر المصنفین شیخ الحدیث محقق العصر حضرت مولانا مفتی محمد خان قادری(بانی ، جامعہ اسلامیہ لاہور)۔

Please follow and like us:

Enjoy this ? Please spread the word :)