نبی امی ۔قرآن اور سنت میں نبی پر نبی امی کا اطلاق

نبی امی ۔قرآن اور سنت میں نبی  پر نبی امی کا اطلاق

 اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ وَالْاِنْجِيْلِ ۡ يَاْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَـبٰۗىِٕثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِيْ كَانَتْ عَلَيْهِمْ ۭفَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَعَزَّرُوْهُ وَنَصَرُوْهُ وَاتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ مَعَهٗٓ ۙ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ١٥٧؀ۧ (الاعراف : ١٥٧ )۔

 ان کے لئے بھی لکھ دوں گاجو اس عظیم رسول، اُمی لقب نبی کی غلامی کرتے ہیں جنہیں وہ اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہواپاتے ہیں ، وہ نبی اکرم انہیں نیکی کا حکم دیتے ہیں ، بُرائی سے منع کرتے ہیں ، ان کے لئے پاکیزہ چیزیں حلال کرتے ہیں اور ناپاک چیزیں ان پر حرام کرتے ہیں ، اور ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق دور کرتے ہیں جوان کے گلے میں تھے، پس وہ لوگ جو ان پر ایمان لائیں ، ان کی تعظیم کریں ، ان کی امدادکریں اور اس نور کی پیروی کریں جوان کے ساتھ نازل کیا گیا، وہی کامیاب ہیں ۔نبی امی ۔قرآن اور سنت میں نبی  پر نبی امی کا اطلاق

فامنو باللہ ورسولہ النبی الامی (الاعراف : ١٥٨ )۔
اللہ پر ایمان لائو اور اس کے رسول پر جو نبی امی ہیں۔

نبی امی ۔قرآن اور سنت میں نبی  پر نبی امی کا اطلاق
نیز قرآن مجید میں ہے۔نبی امی ۔قرآن اور سنت میں نبی  پر نبی امی کا اطلاق
و منھم امیون لا یعلمون الکتاب الا امانی (البقرہ : ٧٨)۔
اور ان میں بعض لوگ ان پڑھ ہیں جو زبان سے لفظوں کو پڑھنے کے سوا (اللہ کی) کتاب (کے معانی) کا کچھ علم نہیں رکھتے۔
اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :۔نبی امی ۔قرآن اور سنت میں نبی  پر نبی امی کا اطلاق
ھوالذی بعث فی المیین رسولا منھم (الجمعہ : ٢)۔
جس نے ان پڑ لوگوں میں انہیں میں سے ایک عظیم رسول بھیجا۔

ان کے علاوہ سورت آل عمران میں دو جگہ نبی امی ۔قرآن اور سنت میں نبی  پر نبی امی کا اطلاق(٧٥‘ ٢٠) امیین کا لفظ استعمال ہوا ہے۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود بھی اپنے لیے نبی امی کا لفظ استعمال کیا ہے۔

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا:نبی امی ۔قرآن اور سنت میں نبی  پر نبی امی کا اطلاق ہم امی لوگ ہیں لکھتے ہیں نہ حساب کرتے ہیں۔

۔(صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٩١٣‘ صحیح مسلم الصیام ‘ ١٥ (١٠٨٠) ٢٤٧٢‘ سنن ابودائود رقم الحدیث : ٢٣١٩‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٢١٤١‘ السنن الکبری ٰ للنسائی رقم الحدیث : ٢٤٥١‘ مسند احمد ج ٢‘ ص ٤٤‘ طبع قدیم ‘ جامع الاصول ج ٦‘ رقم الحدیث : ٤٣٩٣)۔


ماخوذ از کتاب: ۔

تبیان القران از غلام رسول سعیدی