مہاجرین اور انصار کے فضائل

مہاجرین اور انصار کے فضائل :۔

 جو شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لایا اور اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیات ظاہری میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحبت اختیار کی بایں طور کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا یا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی گفتگو سنی یا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سفر یا حضرت کی کسی مجلس میں رہا خواہ یہ صحبت ایک لحظہ کی ہو اور وہ شخص ایمان پر ہی تادم مرگ قائم رہا حتیٰ کہ حالت ایمان میں اس کی موت آئی ہو وہ شخص صحابی ہے۔

مہاجرین:۔مہاجرین اور انصار کے فضائل

 ان میں سے مہاجرین وہ ہیں جنہوں نے مکہ سے ہجرت کی اور انصار وہ ہیں جنہوں نے مدینہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کو پناہ دی۔مہاجرین اور انصار کے فضائل

 حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :۔

 میرے اصحاب کو برا نہ کہو۔ اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ جتنا سونا بھی خیرات کرے تو وہ ان کے دیئے ہوئے ایک مد یا نصف (ایک کلو گرام یا نصف) کے برابر نہیں ہے۔مہاجرین اور انصار کے فضائل

۔(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٦٧٣،

صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٥٤١،

سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٦٥٨،

سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٨٦١،

 مسند احمد ج ٣ ص ١١،

مسند ابویعلیٰ رقم الحدیث : ١٠٨٧، ١١٩٨،

 صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٧٢٥٣ ) ۔

حضرت عبداللہ بن مغفل (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :۔

 میرے اصحاب کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ میرے اصحاب کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ میرے بعد ان کو اپنے طعن کا نشانہ نہ بنائو۔ جس نے ان سے محبت رکھی تو اس نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت رکھی اور جس نے ان سے بغض رکھا تو اس نے مجھ سے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھا اور جس نے ان کو ایذاء دی اس نے مجھ کو ایذاء دی اور جس نے مجھ کو ایذاء دی اس نے اللہ کو ایذاء دی اور جس نے اللہ کو ایذاء دی عنقریب وہ اس کو پکڑ لے گا۔مہاجرین اور انصار کے فضائل

۔(سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٨٦٢،

صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٧٢٥٦،

 مسند احمد ج ٤ ص ٨٧،

حلیتہ الاولیاء ج ٨ ص ٢٨٧) ۔

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو میرے اصحاب کو برا کہتے ہیں تو کہو تمہارے شر پر اللہ کی لعنت ہو۔

۔(سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٨٦٦،

المعجم الاوسط رقم الحدیث : ٨٣٦٢،

 تاریخ بغداد ج ١٣ ص ١٩٥،

 تہذیب الکمال ج ١٢ ص ٣٢٧ ) ۔

مہاجرین اور انصار کے فضائل

حضرت کعب بن عجرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھروں کے سامنے مسجد نبوی میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم میں ایک جماعت انصار کی تھی۔ ایک جماعت مہاجرین کی اور ایک جماعت بنو ہاشم کی۔ ہم میں یہ بحث ہوئی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کون زیادہ قریب ہے اور کون آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو زیادہ محبوب ہے۔

مہاجرین اور انصار کے فضائل

 ہم نے کہا : ہمارا انصار کا گروہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لایا اور ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع کی اور ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جہاد کیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دشمنوں سے لڑے تو ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زیادہ قریب اور زیادہ محبوب ہیں۔

اور ہمارے برادر مہاجرین نے کہا : ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کی اور ہم نے اپنے خاندان، اہل و عیال اور اموال کو چھوڑ دیا اور جن معرکوں میں تم حاضر رہے ان میں ہم بھی حاضر تھے تو ہم اور لوگوں کی بہ نسبت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زیادہ قریب اور زیادہ محبوب ہیں۔

اور ہمارے برادر بنو ہاشم نے کہا : ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خاندان سے ہیں۔(مہاجرین اور انصار کے فضائل ) اور جن مواقع پر تم حاضر تھے ان میں ہم بھی حاضر تھے تو ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زیادہ قریب ہیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زیادہ محبوب ہیں۔ تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس تشریک لاے اور ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا : تم کیا کہہ رہے تھے ؟

 ہم (گروہ انصار) نے اپنی بات دہرائی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے سچ کہا۔ تمہاری بات کو کون مسترد کرسکتا ہے !

 پھر ہمارے برادر مہاجرین نے اپنی بات دہرائی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : انہوں نے سچ کہا۔مہاجرین اور انصار کے فضائل ان کی بات کو کون مسترد کرسکتا ہے !

 پھر ہمارے برادر بنو ہاشم نے اپنی بات دہرائی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : انہوں نے سچ کہا۔ ان کی بات کو کون مسترد کرسکتا ہے !

 پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :۔

 کیا میں تمہارے درمیان فیصلہ نہ کروں ؟

ہم نے عرض کیا : کیوں نہیں ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ہمارے ماں باپ فدا ہوں یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :۔

 اے انصار کے گروہ ! میں صرف تمہارا بھائی ہوں، مہاجرین اور انصار کے فضائل تو انہوں نے کہا : اللہ اکبر ! ربِ کعبہ کی قسم ! ہم بازی لے گئے۔

اور رہے تم اے گروہ مہاجرین ! تو میں صرف تم میں سے ہوں۔ مہاجرین اور انصار کے فضائل تو انہوں نے کہا : اللہ اکبر ! ربِ کعبہ کی قسم ہم جیت گئے۔

اور رہے تم اے بنو ہاشم ! تو تم مجھ سے ہو اور میری طرف ہو۔مہاجرین اور انصار کے فضائل

 تو ہم سب کھڑے ہوگئے اور ہم سب راضی تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تحسین کرتے تھے۔

۔(المعجم الکبیر ج ١٩ ص ١٣٣،

حافظ الہیشمی نے کہا : میں اس حدیث کے ایک راوی کو نہیں پہچانتا، باقی راوی ثقہ ہیں اور بعض میں اختلاف ہے۔

مجمع الزوائد رقم الحدیث : ١٦٣٧٢، طبع جدید دارالفکر بیروت، ١٤١٤ ھ) ۔

 حضرت مسلمہ بن مخلد بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :۔

 مہاجرین عام لوگوں سے چالیس سال پہلے (جنت کی) نعمتوں میں ہوں گے اور لوگ حساب میں گرفتار ہوں گے۔ الحدیث۔مہاجرین اور انصار کے فضائل ۔

۔ (المعجم الکبیر ج ١٠، ص ٤٣٨،

 حافظ الہیشمی نے کہا : مہاجرین اور انصار کے فضائل اس کا ایک راوی عبدالرحمن بن مالک ہے۔ اس کو میں نہیں پہچانتا اور باقی راوی ثقہ ہیں۔

مجمع الزوائد رقم الحدیث : ١٦٣٧٢) ۔

 حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مہاجرین اور انصار کے فضائل ایمان کی علامت انصار سے محبت کرنا ہے اور نفاق کی علامت انصار سے بغض رکھنا ہے۔

۔(صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٧،

 صحیح مسلم رقم الحدیث : ٧٤،

سنن النسائی رقم الحدیث : ٥٠١٩) ۔

 حضرت براء بن عازب (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :۔

 انصار سے صرف مومن محبت رکھتا ہے اور ان سے صرف منافق بغض رکھتا ہے۔ پس جو ان سے محبت کرے گا تو اللہ اس سے محبت کرے گا مہاجرین اور انصار کے فضائل  اور جو ان سے بغض رکھے گا اللہ اس سے بغض رکھے گا۔مہاجرین اور انصار کے فضائل

۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٧٨٣،

صحیح مسلم رقم الحدیث : ٧٥٦٠،

 سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٩٠٠،

 سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٦٣،

مسند احمد ج ٤ ص ٢٨٣،

صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٧٢٧٢،

 تاریخِ بغداد ج ٢ ص ٢٤١،

 شرح السنہ رقم الحدیث : ٣٩٦٧،

مسند ابن الجعد رقم الحدیث : ٤٧٩)۔

اللہ کی رضا

اللہ کی رضا اس پر موقوف ہے کہ مہاجرین اور انصار کی نیکیوں میں ان کی اتباع کی جائے : اللہ تعالیٰ نے فرمایا :۔

 اور جن مسلمانوں نے نیکی میں ان کی اتباع کی۔

 حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : اس سے مراد یہ ہے کہ جو مسلمان مہاجرین اور انصار کے لیے جنت اور رحمت کی دعا کرتے ہیں اور ان کے محاسن بیان کرتے ہیں اور دوسری روایت یہ ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ قیامت تک کے جو مسلمان مہاجرین اور انصار کے دین اور ان کی نیکیوں میں ان کی اتباع کرتے ہیں۔ یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ جو ان کی اتباع کرے وہ اللہ کے راضی کرنے کے مرتبہ اور ثواب اور جنت کا اس وقت مستحق ہوگا جب وہ نیکی میں مہاجرین اور انصار صحابہ کی اتباع کرے گا۔ مہاجرین اور انصار کے فضائل اور احسان سے مراد یہ ہے کہ وہ ان صحابہ کے حق میں نیک کلمات کہے اور ان کے محاسن بیان کرے اس لیے جو شخص صحابہ کرام کے متعلق نیک کلمات نہیں کہے گا وہ اللہ کی رضا کے مرتبہ اور جنت کا مستحق نہیں ہوگا۔ کیونکہ ایمان والے صحابہ کرام کی تعظیم میں بہت مبالغہ کرتے ہیں اور اپنی زبانوں پر کوئی ایسا کلمہ نہیں لاتے جو ان کی شان اور ان کے مقام کے نامناسب ہو۔مہاجرین اور انصار کے فضائل

حافظِ ابن کثیر دمشقی متوفی ٧٧٤ ھ لکھتے ہیں :۔

 ان لوگوں پر افسوس ہے جو صحابہ کرام سے بغض رکھتے ہیں اور ان کو برا کہتے ہیں۔ خاص طور پر اس صحابی کو جو سید الصحابہ ہیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد امت میں سب سے افضل ہیں اور سب سے برتر اور خلیفہ اعظم ہیں۔ یعنی حضرت ابوبکر بن ابی قحافہ (رض) ۔مہاجرین اور انصار کے فضائل کیونکہ رافضی افضل الصحابہ سے بغض رکھتے ہیں اور ان کو برا کہتے ہیں۔ اور جب یہ لوگ ان ذوات قدسیہ کو برا کہیں گے جن سے اللہ راضی ہوگیا تو ان کا قرآن پر ایمان کیسے رہے گا اور رہے اہلسنت مہاجرین اور انصار کے فضائل تو وہ ان سے راضی ہیں جن سے اللہ راضی ہے اور اس کو برا کہتے ہیں جس کو اللہ اور اس کا رسول برا کہتے ہیں۔ اللہ کے دوستوں سے دوستی رکھتے ہیں اور اللہ کے دشمنوں سے دشمنی رکھتے ہیں۔ وہ متبع بالسنت ہیں۔ مبتدع نہیں ہیں اور وہی حزب اللہ ہیں اور فلاح پانے والے ہیں۔

 (تفسری ابن کثیر ج ٢ ص ٤٣٠۔ ٤٢٩، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٩ ھ) 

 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ اس کو جنت عطا فرمائے گا اور اس سے راضی ہوگا، جو مہاجرین اور انصار کی اتباع بالاحسان کرے گا اور ان کے متعلق نیک کلمات کہے گا۔ سو جس کو جنت اور اللہ کی رضا چاہیے وہ مہاجرین اور انصار صحابہ کی نیکی میں اتباع کرے اور ان کے محاسن بیان کرے۔ مہاجرین اور انصار کے فضائل نیز اس آیت سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ مہاجرین اور انصار صحابہ سے اللہ راضی ہے اور جن سے اللہ راضی ہے انہیں اس کی کیا پرواہ ہوگی کہ کوئی ان سے راضی ہو یا ناراض ہو۔مہاجرین اور انصار کے فضائل


ماخوذ از کتاب: ۔

تبیان القران از غلام رسول سعیدی