مہاجرین اور انصار میں سے سابقین اولین کے مصداق

مہاجرین اور انصار میں سے سابقین اولین کے مصداق

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :۔

اور مہاجرین اور انصار میں سے (نیکی میں) سبقت کرنے والے اور سب سے پہلے ایمان لانے والے اور جن مسلمانوں نے نیکی میں ان کی اتباع کی، اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے اور اللہ نے ان کے لیے ایسی جنتیں تیار کی ہیں جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے یہی بہت بڑی کامیابی ہےمہاجرین اور انصار میں سے سابقین اولین کے مصداق

(التوبہ : ١٠٠)

مہاجرین اور انصار میں سے سابقین اولین کے مصداق میں اقوال :۔

اس آیت میں مہاجرین اور انصار میں سے جو سابقین اولین ہیں اس کا مصداق کون سے صحابہ ہیں، اس میں متعدد اقوال ہیں : امام ابن جریر نے متعدد اسانید کے ساتھ عامر اور شعبی سے روایت کیا ہے کہ یہ وہ صحابہ ہیں جو بیعت رضوان کے موقع پر حاضر تھے۔ اور حضرت ابوموسیٰ اشعری، سعید بن مسیب، ابن سیرین اور قتادہ سے روایت ہے کہ یہ وہ صحابہ ہیں جنہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ دونوں قبلوں بیت اللہ اور بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی۔ سو وہ مہاجرین اولین میں سے ہیں۔مہاجرین اور انصار میں سے سابقین اولین کے مصداق

(جامع البیان جز ١١، ص ١١۔ ١٠، تفسیر ابن ابی حاتم ج ٦، ص ١٨٦٨ )

امام عبدالرحمن بن علی بن محمد جوزی حنبلی متوفی ٥٩٧ ھ لکھتے ہیں : اس آیت کے مصداق میں چھ قول ہیں :۔

۔(١) حضرت ابوموسیٰ اشعری، سعید بن مسیب، ابنِ سیرین اور قتادہ کا یہ قول ہے کہ اس سے مراد وہ صحابہ ہیں جنہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ دونوں قبلوں کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی۔

۔(٢) شعبی نے کہا : یہ وہ صحابہ ہیں جنہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ پر بیعت رضوان کی تھی اور یہ بیعت حدیبیہ ہے۔ (٣) عطاء بن ابی رباح نے کہا : ان سے مراد اہل بدر ہیں۔

۔(٤) محمد بن کعب القرظی نے کہا : ان سے مراد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تمام اصحاب ہیں۔ ان کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحبت میں سبقت حاصل ہے اور بیشک اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تمام اصحاب کی مغفرت کردی ہے اور ان کے لیے جنت کو واجب کردیا ہے۔ خواہ وہ نیکوکار ہوں یا خطاکار۔

۔(٥) علامہ ماوردی نے کہا : ان سے مراد وہ صحابہ ہیں جنہوں نے موت اور شہادت میں سبقت کی اور اللہ کے ثواب کی طرف سبقت کی۔

۔(٦) قاضی ابویعلیٰ نے کہا : ان سے مراد وہ صحابہ ہیں جو ہجرت سے پہلے اسلام لائے۔مہاجرین اور انصار میں سے سابقین اولین کے مصداق

(زاد المسیر ج ٣، ص ٤٩١۔ ٤٩٠، مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، ١٤٠٧ ھ)

تاہم اس سے کوئی چیز مانع نہیں ہے کہ ان تمام اقسام کو اس آیت کا مصداق قرار دیا جائے۔ ابومنصور بغدادی نے کہا کہ ہمارے اصحاب کا اس پر اجماع ہے کہ تمام صحابہ میں افضل خلفاء اربعہ ہیں۔ پھر عشرہ مبشرہ میں سے باقی چھ، (حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت سعید بن زید، حضرت ابوعبیدہ بن الجراح (رض) اجمعین)مہاجرین اور انصار میں سے سابقین اولین کے مصداق

(سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٧٤٧)

پھر اصحاب بدر، پھر اصحاب احد، پھر حدیبیہ میں اہل بیعت رضوان۔

(فتح القدیر ج ٢ ص ٥٦٣، مطبوعہ دارالوفاء بیروت، ١٤١٨ ھ)

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :۔مہاجرین اور انصار میں سے سابقین اولین کے مصداق

مہاجرین اور انصار میں سے سابقین اولین کے مصداقمیرے نزدیک اس آیت کا مصداق وہ شخص ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ہجرت اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نصرت میں سب سے سابق اور سب سے اول ہو۔ اور وہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) ہیں۔ کیونکہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر رہتے تھے اور ہر مقام اور ہر جگہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہوتے تھے۔ اس لیے حضرت ابوبکر کا مقام دوسرے صحابہ سے بہت زیادہ بلند ہے اور حضرت علی بن ابی طالب (رض) اگرچہ مہاجرین اولین میں سے ہیں لیکن انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہجرت کے بعد ہجرت کی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مہمات کو انجام دینے کے لیے مکہ میں رہے لیکن ہجرت میں سبقت کرنے کا شرف حضرت ابوبکر (رض) کو حاصل ہوا۔ اسی طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نصرت میں بھی سبقت کا شرف حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو حاصل ہے۔مہاجرین اور انصار میں سے سابقین اولین کے مصداق

(تفسیر کبیر ج ٦، ص ١٣٨۔ ١٣٧، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت، ١٤١٥ ھ)


ماخوذ از کتاب: ۔

تبیان القران از غلام رسول سعیدی