مہاجرین اور انصار میں سے ایمان میں سبقت کرنے والوں

مہاجرین اور انصار میں سے ایمان میں سبقت کرنے والوں کی تفصیل

مہاجرین اور انصار میں سے ایمان میں سبقت کرنے والوں کی تفصیل :۔

مہاجرین اور انصار میں سے ایمان میں سبقت کرنے والوں کی تفصیل

امام ابو محمد الحسین بن مسعود الفراء البغوی المتوفی ٥١٦ ھ لکھتے ہیں :۔

 اس میں اختلاف ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ حضرت خدیجہ (رض) کے بعد سب سے پہلے کون اسلام لایا۔ جب کہ اس پر اتفاق ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سب سے پہلے حضرت خدیجہ (رض) اسلام لائیں۔

بعض علماء نے کہا :۔

سب سے پہلے جو ایمان لائے اور جنہوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھی وہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) ہیں۔ یہ حضرت جابر کا قول ہے اور امام ابن اسحٰق نے کہا :۔

 حضرت علی دس سال کی عمر میں اسلام لائے تھے۔ اور بعض نے کہا : حضرت خدیجہ (رض) کے بعد جو سب سے پہلے اسلام لائے وہ حضرت صدیق اکبر (رض) ہیں۔ اور یہ حضرت ابن عباس، ابراہیم نخعی اور شعبی کا قول ہے۔

 اور بعض نے کہا :۔مہاجرین اور انصار میں سے ایمان میں سبقت کرنے والوں کی تفصیل

 سب سے پہلے حضرت زید بن حارثہ (رض) اسلام لائے اور یہ زہری اور عروہ بن الزبیر کا قول ہے اور اسحٰق بن ابراہیم حنظلی نے ان اقوال کو جمع کیا ہے۔ انہوں نے کہا :۔

 مردوں میں سبے سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق (رض) اسلام لائے اور عورتوں میں ام المومنین حضرت خدیجہ (رض) اور بچوں میں حضرت علی (رض) اور غلاموں میں حضرت زید بن حارثہ (رض) ۔

امام ابن اسحٰق نے کہا کہ:۔

 جب حضرت ابوبکر (رض) اسلام لائے تو انہوں نے اپنے اسلام کا اظہار کیا اور لوگوں کو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف دعوت دی اور حضرت ابوبکر قریش میں عمدہ نسب کے تھے۔ نرم مزاج تھے۔ تاجر تھے اور ان کی خوش اخلاقی بہت مشہور تھی۔ لوگ ان کے پاس آتے تھے اور متعدد معاملات میں ان سے الفت رکھتے تھے۔ کیونکہ وہ ان کے حسن معاملہ کو جانتے تھے۔

حضرت ابوبکر کو جس شخص پر اعتماد ہوتا وہ اس کو اسلام کی دعوت دیتے۔ لہٰذا حضرت عثمان بن عفان، حضرت زبیر بن عوام، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت طلحہ بن عبیداللہ ان کے ہاتھ پر اسلام لائے۔ جب انہوں نے اسلام قبول کرلیا اور نماز پڑھ لی تو حضرت ابوبکر ان کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں لے کر آئے۔ یہ وہ آٹھ شخص تھے جنہوں نے اسلام کی طرف سبقت کی تھی۔ پھر لوگ پے در پے اسلام میں داخل ہونے لگے۔

مہاجرین اور انصار میں سے ایمان میں سبقت کرنے والوں کی تفصیل

انصار میں سے سبقت کرنے والے:۔مہاجرین اور انصار میں سے ایمان میں سبقت کرنے والوں کی تفصیل

رہے انصار میں سے سبقت کرنے والے تو یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لیلۃ العقبہ میں بیعت کی تھی۔

اصحاب العقبۃ الاولیٰ:۔

العقبۃ الاولیٰ (مکہ کے قریب ایک گھاٹی تھی۔ مدینہ سے لوگ حج کے لیے آتے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس گھاٹی میں تبلیغ فرماتے۔ پہلی بار چھ شخص مسلمان ہوئے تھے۔ ان کو اصحاب العقبۃ الاولیٰ کہا جاتا ہے) میں چھ شخص مسلمان ہوئے تھے اور دوسرے سال چھ اور آ کر مسلمان ہوئے۔ یہ بھی اصحاب العقبۃ الاولیٰ ہیں۔

اصحاب العقبہ الثانیہ:۔

 ان کے بعد ستر (٧٠) شخص مسلمان ہوئے تھے۔ یہ اصحاب العقبہ الثانیہ ہیں۔ حضرت مصعب بن عمیر ان کو قرآن کی تعلیم دیتے تھے۔ پھر ان کے ساتھ انصار کے مردوں، عورتوں اور بچوں کی ایک بڑی تعداد اسلام لے آئی۔

(معالم التنزیل ج ٢ ص ٢٧١، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٤ ھ، اللباب فی علوم الکتاب ج ١٠ ص ١٨٧۔ ١٨٦، مطبوعہ بیروت) 

مہاجرین سے مراد:۔

 مہاجرین سے مراد وہ صحابہ ہیں جنہوں نے اسلام اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خاطر اپنی قوم، اپنے قبیلہ اور اپنے وطن کو چھوڑ دیا ۔

انصار سے مراد:۔

انصار سے مراد وہ صحابہ ہیں جنہوں نے دشمنان اسلام کے خلاف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدد کی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کو مدینہ میں پناہ دی۔

 امام محمد بن سعد متوفی ٢٣٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :۔

 رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایامِ حج میں تبلیغ کے لیے تشریف لے گئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مدینہ سے آئے ہوئے چھ شخص ملے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے پوچھا۔ کیا تم یہود کے حلیف ہو ؟ انہوں نے کہا : ہاں ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اللہ کی طرف دعوت دی اور ان پر اسلام پیش کیا۔ اور ان کے سامنے قرآن کی تلاوت کی۔ سو وہ مسلمان ہوگئے اور یہ بنو النجار میں سے اسعد بن زرارہ اور عوف بن الحارث اور بنو زریق میں سے رافع بن مالک اور بنو سلمہ سے قطبہ بن عامر بن حدیدہ اور بنو حرام میں سے عقبہ بن عامر بن نابی اور بنو عبید بن عدی بن سلمہ سے جابر بن عبداللہ  تھے اور ان سے پہلے مدینہ سے آ کر کوئی مسلمان نہیں ہوا تھا۔ ان پر سب کا اجماع ہے۔ پھر یہ چھ صحابہ مدینہ گئے اور انہوں نے اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی۔ پس جس نے اسلام لانا تھا وہ اسلام لے آیا۔ ان دونوں انصار کے ہر گھر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر ہو رہا تھا۔ اس کے دوسرے سال نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اس گھاٹی میں ان چھ کے ساتھ چھ اور نفر آئے۔ ان میں بنی عوف بن الخزرج میں سے عبادہ بن الصامت، اور یزید بن ثعلبہ اور بنو عامر سے عباس بن عبادہ بن نصلہ تھے اور بنو زریق میں سے ذکوان بن عبد قیس تھے۔ یہ دس افراد خزرج میں سے تھے اور اوس میں سے دو شخص تھے۔ ابوالہیشم بن النیہان، یہ بنو عبدالاشہل کے حلیف تھے اور بنو عمرو بن عوف میں سے عویم بن ساعدہ تھے۔ یہ سب مسلمان ہوگئے اور انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس پر بیعت کی کہ

وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے

نہ چوری کریں گے

نہ زنا کریں گے

نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گے

نہ کسی پر بہتان لگائیں گے

نیک کام میں کسی کی مخالف نہیں کریں گے۔

مہاجرین اور انصار میں سے ایمان میں سبقت کرنے والوں کی تفصیل

آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تم نے اس عہد کو پورا کیا تو تمہارے لیے جنت ہے اور جس نے ان ممنوع کاموں میں سے کوئی کام کرلیا تو اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ وہ چاہے تو ان کو معاف کر دے اور چاہے تو ان کو عذاب دے۔ اس وقت تک جہاد فرض نہیں ہوا تھا۔ وہ مدینہ چلے گئے اور اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غلبہ عطا فرمایا اور حضرت اسعد بن زرارہ مدینہ میں مسلمانوں کو جمہ کی نماز پڑھاتے تھے اور یہ سب سے پہلے جمعہ کی نماز تھی۔ یہ بارہ صحابہ اصحاب عقبہ اولیٰ ہیں اور انصار میں سے سابقین ہیں ان کے بعد ستر نفر مدینہ سے مکہ کی گھاٹیوں میں آئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو مسلمان کیا۔ یہ اصحاب عقبہ ثانیہ ہیں۔

 (الطبقات الکبریٰ ج ١ ص ١٧١۔ ١٧٠، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، ١٤١٨ ھ)

مہاجرین اور انصار میں سے ایمان میں سبقت کرنے والوں کی تفصیل

ماخوذ از کتاب: ۔

تبیان القران از غلام رسول سعیدی