مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے (حدیث المسلم أخو المسلم) کی تشریح اور تخریج

مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے

    عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ” الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ ؛ لا یَظْلِمُہُ ، وَلا یَخْذُلُہُ ، وَلا یَحْقِرُہُ ، بِحَسْبِ امْرِءٍ مِنْ الشَّرِّ أَنْ یَحْقِرَ أَخَاہُ الْمُسْلِمَ ،              رَواہُ مُسلِمٌ

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور رسالت ِمآب ﷺنے ارشادفرمایا : مسلمان ، مسلمان کابھائی ہے۔نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اس کو ظلم میں سونپتا ہے ، نہ اس کو رسوا کرتا ہے ،نہ اس کوحقیر جانتا ہے ۔ کسی شخص کے بدبخت ہونے کے لیے اتنا ہے کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔

          ( اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے)

:تخریج الحدیث

    (صحیح مسلم: رقم ٢٥٦٤۔ طبع مؤسسۃ الرسالۃ) 

    (مسند امام احمد: رقم ٧٧٢٧۔ طبع مؤسسۃ الرسالۃ)

    (السنن الکبرٰی للبیہقی : ج٦ص٩٢۔ طبع دارالنوادر بےروت)

:شرح الحدیث

:ارشاد باری تعالیٰ ہے

وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّلاَ تَفَرَّقُوْا وَاذْکُرُوْا بِنِعْمَتِ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ کُنْتُمْ اَعْدَآئً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖ اِخْوَانًا

(آل عمران:١٠٣)

اوراللہ کی رسی مضبوط تھام لو سب مل کر اور آپس میں پھٹ نہ جانا (فرقوں میں نہ بٹ جانا)اور اللہ کااحسان اپنے اوپر یاد کروجب تم میں دشمنی تھی اس نے تمہارے دلوں میں ملاپ کردیا تو اس کے فضل سے تم آپس میں بھائی ہوگئے۔

   : نیز ارشاد باری تعالیٰ ہے

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْکُمْ وَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ

(الحجرات : ١٠)

مسلمان مسلمان بھائی ہیں تو اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرواور اللہ سے ڈرو کہ تم پہ رحمت ہو۔

مسلمان، مسلمان کا بھائی یے

 :نیز ارشاد باری تعالیٰ ہے 

وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُہُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْض ٍ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَیُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَیُطِیْعُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہ، اُولٰۤئِکَ سَیَرْحَمُہُمُ اللّٰہُ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ

(التوبۃ: ٧١)

مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں ۔ بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے منع کریں اور نماز قائم رکھیں اور زکوٰ ۃ دیں اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانیں یہ ہیں جن پر اللہ عنقریب رحم کرے گا ۔ بے شک اللہ غالب حکمت والا ہے ۔

    ان آیات سے اور اس طرح کی دیگر آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل ایمان (مسلمان)  آپس میں بھائی بھائی ہیں اور یہ اخوۃ نسبی نہیں بلکہ دینی ہے ۔

اس کی مزید توضیح کے لیے درج ذیل احادیث مبارکہ ملاحظہ کریں ۔

    سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسالت مآب ﷺ نے ارشاد فرمایا

المؤمن للمؤ من کا لبنیان یشد بعضہ بعضاََ

(صحیح البخاری ـ:رقم ٦٠٢٦ )

ایک (مسلمان) مومن دوسرے (مسلمان) مومن کے لئے سیسہ پلائی دیوار کی طرح ہے جس کے بعض اجزاء دوسرے بعض کو تقویت دیتے ہیں۔

    :حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بےان کرتے ہیں کہ حضور رسالت مآب ﷺ نے ارشاد فرمایا 

تری المؤمنین فی تراحمھم وتوادھم و تعاطفھم کمثل الجسد اذا اشتکی عضوا تداعی بہ سائر جسدہ بالسھر والحمی

(صحیح البخاری : رقم ٦٠١١)  

تم اہل ایمان کو دیکھو گے کہ وہ ایک دوسرے پر رحم کرنے اور ایک دوسرے سے محبت ومودت کرنے اورایک دوسرے پر شفقت کرنے میں ،جسم کی طرح ہیں جب مسلمان کے ایک عضو میں تکلیف ہوتواس کی وجہ سے سارا جسم تکلیف میں ہوتا ہے اور اس کی ساری رات بیداری اوربخار میں گزرتی ہے ۔

     اس حدیث مبارک سے معلوم ہوا کہ اہل ِاسلام (مسلمان) کے حقوق کی تعظیم کرنی چاہئے اور ان کو ایک دوسرے کی مدد پر، نیز ایک دوسرے کے ساتھ نرمی اور حسن سلوک کرنے پر برانگیختہ کرنا چاہئے۔

 (بخاری : ٦٠٦٤)

Please follow and like us:

Enjoy this ? Please spread the word :)