محبت رسولﷺ کیسے حاصل ہو گی ؟

محبت رسولﷺ کیسے حاصل ہو گی ؟

     اے میرے بھائی! اگر تم خواص علماء مربین کی جماعت میں داخل ہونے کا (محبت رسولﷺ حاصل کرنے کا)  ارادہ کرو تو اللہ عزجل کی بارگاہ سے ثواب حاصل کرنے کی نیت سے ، طلب حدیث ، سماعِ حدیث اور روایتِ حدیث کو اپنے اوپر لازم کر لو ۔ اس میں(محبت رسولﷺ حاصل کرنے کے لیے)  تمہاری نیت ہو

”اپنے رب عزوجل کے دین اور اپنے نبی کی سنت کو پہچاننا ”

نیز اس دین پر تم کوعمل کرنے والا ہونا چاہئے ،اور رسول ﷺ کے فرمودات پر پابندی کرنے والا ہونا چاہئے، اور تمہیں (محبت رسولﷺ حاصل کرنے کے لیے) ان دعاؤں کا ورد کرنا چاہئے جو رسول ﷺ سے صحیح ثابت ہیں اور ہر دن ان کو پڑھنا چاہئے، اور ذہن کو مستحضر رکھ کر ( محبت رسولﷺ حاصل کرنے کے لیے)  رسول ﷺ پر درود شریف پڑھنے کا ایسا ورد ہوناچاہئے گویا کہ تم آپ ﷺ کو دیکھ رہے ہو۔

اس کے ساتھ ساتھ محبت رسولﷺ اور آپ کی ناموس کی تعظیم بھی تمہارے دل میں ضرور ہونی چاہئے۔(اگر تم  محبت رسولﷺ حاصل کرنے کے لیےایسا کر لو گے) تو اس سے میں تمہارے لےے امید رکھتا ہوں کہ رسول ﷺ کی برکات طیبہ تمہارے دل تک پہنچ جائیں گی۔ نیز میں تمہارے لےے اس سے امید رکھتا ہوں کہ تمہیں  محبت رسولﷺ اور آپ ﷺ کی اتباع کی محبت عطا کر دی جائے گی ،کیونکہ  محبت رسولﷺ ا ن شاء اللہ ہر خیر اور ہر بھلائی کا چراغ ہے ۔

محبت رسولﷺ

:محبت رسولﷺ حاصل کرنے کے لیے ہر عمل میں اخلاص اور صدق نیت ضروری ہے

    اللہ تعالیٰ کی رضا( اور محبت رسولﷺ حاصل کرنے)  کے لیے فقہ اور احکام کی معرفت کو حاصل کرنا بھی تم پر لازم ہے، لیکن اس سے قاضی اور مدرس یا صاحب جامکیہ(مقررہ تاریخ پر تنخواہ اور وظیفہ لینے والا) بننے کی ہرگز تمہاری نیت نہ ہو ،کیونکہ ہر شخص کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی اور اعمال کا مدار نیتوں پر ہے۔ سو جس کی ہجرت اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺکی طرف ہو تو اس کی ہجرت اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺکی طرف ہی ہے ۔ اور جس کی ہجرت دنیا اور اس کے حصول کی طرف ہو ،یا کسی خاتون سے شادی کرنے کی طرف ہو تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی ۔

لیکن تم  (محبت رسولﷺ حاصل کرنے کے لیے) علم اس لیے حاصل کرو تاکہ اس کے ذریعے تم اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرو اوراس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کے فرائض اور اس کی حدود کو پہچانو ،تاکہ تم خود عمل کرو اور اپنے علاوہ دیگر اہل ایمان کو بھی تعلیم دو، اور تم اس کے ساتھ مسلمانوں کے درمیان اللہ عزوجل کے دین کوقائم کرو ۔ پس تم اس کے ساتھ شریعت کے مددگار اور اللہ عزوجل کے لشکروں میں سے ایک لشکر بن جاؤ گے ۔اگر تمہارے صدقے ایک شخص ہدایت یافتہ ہو گیا تو یہ تمہارے لیے ساری کائنات سے افضل ہے ، اور ان شاء اللہ تعالیٰ (محبت رسولﷺ حاصل کرنے کی)  نیت کی برکت سے ان روشن ، منور دل والے خواص علماء میں سے ہو جاؤ گے جو علم کے ثمرہ کے وارث تھے اور اسکی حقیقت تک پہنچے اور وہ خشیت اور خوف الہی رکھنے والے لوگ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشادگرامی ہے :۔

اِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰۤؤُا

(سورہ فاطر: ٢٨)

بے شک اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔

اور اس بات سے ڈر کہ کہیں تیرادل دنیا دار علماء کی طرح نہ ہوجائے ،کیونکہ ان کے دل غافل ہیں اوردنیا اور دنیا کے مناصب کے حصول پر حریص ہیں، دنیا کے وجود پر وہ خوش ہوتے ہیں اور دنیا کے فوت ہونے پر غمزدہ ہوتے ہیں اور رفعت و ریاکاری کو پسند کرتے ہیں ۔ پس یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے علم ایسا کمائی کا آلہ بن گیا جس کے ذریعے وہ اپنی دنیا اور اپنے مناصب حاصل کرتے ہیں ،کیونکہ ہر شخص کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی، لیکن جو شخص اللہ تعالیٰ سے لین دین کرے گا کبھی خسارے میں نہیں ہوگا۔

     بعض آثارمیں یہ روایت موجود ہے کہ اللہ عزوجل فرماتا ہے :۔

”بلاشبہ میں نے مخلوق کو اس لیے پیدا کیا تاکہ وہ مجھ سے نفع حاصل کرے ”

تو خوشخبری ہے اس شخص کے لیے جس کا(محبت رسولﷺ حاصل کرنے کے لیے)  لین دین اللہ عزوجل کے ساتھ ہو اور اسے دنیا میں زہد اور آخرت کی طرف توجہ عطا کی گئی ہو ، اوراس نے اپنے علم وعمل اور اپنی ظاہری و باطنی تمام تگ ودو سے اللہ عزوجل کی رضا کو ملحوظ رکھا ۔اور اللہ تعالیٰ ہی سے مدد ہے ۔

 

ماخوز از کتاب:۔

 عربی نام:   مفتاح طریق الاولیاء

مؤلف:امام احمد بن ابراہیم الواسطی الحنبلی (ت:٧١١ھ)۔

            اردو نام:    آیئے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کریں

                 مترجم: علامہ مفتی محمد اللہ بخش تونسوی

 

Please follow and like us:

Enjoy this ? Please spread the word :)