شوق زیارت میں جبرائیل امین علیہ السلام کی بے قراری

شوق زیارت میں جبرائیل امین علیہ السلام کی بے قراری

    سورۃ الضحی کا شان نزول بیان کرتے ہوئے مفسرین نے لکھا ہے کہ ایک مرتبہ بعض اہم حکمتوں کی بنا پر کچھ عرصہ کے لئے سلسلہ وحی منقطع رہا تو مخالفین نے یہ طعنہ دینا شروع کر دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رب نے اسے چھوڑ دیا۔ اس پر اللہ تعالی نے سورۃ الضحی کو نازل فرمایا۔ جب جبرائیل امین علیہ السلام اس سورۃ مبارکہ کی صورت میں رب کریم کا پیار بھرا پیغام لے کر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

یا جبریل ما جئت حتی اشفقت الیک؟

اے جبرائیل امین علیہ السلام ! میرے محبوب کا پیغام لانے میں اتنی دیر کیوں ہوگئی (تو جانتا ہے) مجھے تیری (جبرائیل امین علیہ السلام کی) آمد کا کتنا انتظار رہتا ہے۔

اس پر جبرائیل امین علیہ السلام نے عرض کیا۔

انی کنت الیک اشد شوقاً ولکنی عبد مامور وما نتزل الا بامرر بک

یا رسول اللہ ،مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت و ملاقات کا شوق آپ سے بڑھ کر تھا مگر میں حکم کا بندہ ہوں ۔ اور آپ کے رب کے حکم کے بغیر ہم (جبرائیل امین علیہ السلام) نازل نہیں ہو سکتے۔

(الخازن- ۴ = ۴۸۵)

یعنی مجھے تو (جبرائیل امین علیہ السلام کو) آپ کی زیارت کا بے حد شوق تھا ، مگر یہ معاملہ آپ کے رب اور آپ کا ہے میں تو فقط اس کے حکم کا پابند ہوں۔

بے لقائے یار ان کو چین آجاتا اگر

بار بار آتے نہ یوں جبریل سدرہ چھوڑ کر

جبرائیل امین علیہ السلام کی بے قراری

 


  ماخوذ از کتاب:  مشتاقان جمال نبوی کی کیفیات جذب و  مستی

مصنف :   بدر المصنفین شیخ الحدیث محقق العصر حضرت مولانا مفتی محمد خان قادری(بانی ، جامعہ اسلامیہ لاہور)۔

Please follow and like us:

Enjoy this ? Please spread the word :)