دل میں اللہ کے نور کا معیار اور اس کی علامتیں

انسان کے دل میں اللہ کے نور کا معیار اور اس کی علامتیں

 

اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ فَهُوَ عَلٰي نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّهٖ ۭ فَوَيْلٌ لِّــلْقٰسِيَةِ قُلُوْبُهُمْ مِّنْ ذِكْرِ اللّٰهِ ۭ اُولٰۗىِٕكَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ 22؀

:ترجمہ

تو وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لئے کھول دیا ہے اور وہ اپنے رب کی طرف سے نور پر ہے ، کیا وہ سنگ دلوں جیسا ہے ؟ پس ہلاکت ہے ان لوگوں کے لئے جن کے دل اللہ کے ذکر (قرآن ) کے قبول کرنے سے سخت ہوگئے ہیں ، یہی لوگ کھلی گمراہی میں ہیں۔

 

اسلام کے لیے سینہ کھولنے سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے احکام قبول کرنے کی اس کے دل میں مکمل استعداد پیدا کردی ہو اور جس فطرت پر انسان کو پیدا کیا گیا ہے انسان میں وہ فطرت صحیح اور سالم موجود ہو اور اس کی غلط روش کی وجہ سے وہ فطرت ضائع نہ ہوئی ہو۔

نیز فرمایا : ” وہ اپنے رب کی طرف سے نور پر قائم ہو”۔

 اس نور سے مراد یہ ہے کہ اس باہر کی کائنات میں اور انسان کے اپنے اندر اللہ تعالیٰ نے اپنے وجود، اپنی توحید اور اپنی قدرت پر جو نشانیاں رکھی ہیں وہ ان نشانیوں سے اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کی معرفت حاصل کرے اور اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کے احکام کی اطاعت کی امنگ اور جذبہ پیدا ہو اور جب اس کا یہ نور قوی ہوجاتا ہے تو وہ دوسروں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے اور اس کی مجلس میں بیٹھنے والوں اور اس کی گفتگو سننے والوں کے دلوں میں بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کے احکام کی اطاعت کا ذوق اور شوق پیدا ہوجاتا ہے۔

: نور کا معیار

 لوگ اگر کسی کا سرخ وسفید چہرہ دیکھیں تو کہتے ہیں کہ فلاں کا بڑا نورانی چہرہ ہے، یہ نور کا معیار نہیں ہے۔ نور کا معیار یہ ہے کہ جس کو دیکھ کر خدا یاد آئے، جس کی باتیں سن کر دل میں رقت پیدا ہو، جس کی سیرت و کردار دیکھ کر انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کی عبادت کا داعیہ پیدا ہو تو اس شخص میں اللہ کا نور ہے۔

: ایک اور معیار

یہ ہے کہ فحش کاموں کے ارتکاب اور گناہوں کی کثرت سے انسان کے چہرے پر پھٹکار برسنے لگتی ہے، اس کا چہرہ خرانٹ ہوجاتا ہے اور جو گناہوں سے اجتناب کرتا ہو اور نیک کام بکثرت کرتا ہو اس کے چہرے سے سادگی اور بھولپن ظاہر ہوتا ہے اور اس کا چہرہ بارونق ہوتا ہے اور یہ نور کے آثار میں سے ایک اثر ہے۔

 :اصل نورانیت

 لیکن اصل نورانیت یہی ہے کہ اس پر عبادت اور خوف خدا کا غلبہ ہو، وہ یاد الٰہی سے غافل کرنے والے کاموں سے بچتا ہو، ہنستا کم ہو اور روتا زیادہ ہو، اس کی مجلس میں طیفے اور چنگلے نہ ہوں، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی باتیں ہوں، ایسے شخص کا نور دوسروں کے دلوں کو بھی یاد خدا سے روشن کرتا ہے، وہ جس قدر عبادت و ریاضت میں قوی ہوگا اس کا نور اس قدر قوی ہوگا، عام مؤمنوں کے دل کا نور چراغ کی طرح ہے، اولیاء اللہ کا نور ستاروں کی طرح ہے، صحابہ کا نور چاند کی طرح ہے اور ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نور سورج کی طرح بلکہ سورج سے بھی زیادہ قوی ہے، اس نور کا فیضان نبیوں اور رسولوں پر ہے، ولیوں پر ہے، عام مسلمانوں پر ہے اور ہر صاحب ہدایت کو اسی نور سے ہدایت اور اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوئی ہے۔انسان کے دل میں اللہ کے نور کا معیار اور اس کی علامتیں

دل میں اللہ کے نور کا معیار اور اس کی علامتیں

 :بندے کا شرح صدر

: حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کی تلاوت کی 

” افمن شرح الللہ صدرہ للاسلام فحوعلی نور من ربہ” 

(الزمر : ٢٢)

 ہم نے پوچھا : یارسول اللہ ! بندے کا شرح صدر کس طرح ہوتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : جب بندہ کے دل میں نور داخل ہوتا ہے تو اس کا شرح صدر ہوجاتا ہے

ہم نے پوچھا : یارسول اللہ ! اس کی علامت کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : وہ دارالخلد (آخرت) کی طرف رجوع کرتا ہے اور دارالغرور (دنیا) سے بھاگتا ہے اور موت آنے سے پہلے موت کی تیاری میں لگا رہتا ہے۔

(المستدرک ج ٤ ص ٣١١، شعب الایمان رقم الحدیث : ١٠٥٢٢، معالم التنزیل رقم الحدیث : ١٨١٧)

 نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین اوصاف ذکر فرمائے ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جس شخص میں یہ تین اوصاف ہوں گے اس کا ایمان کامل ہوگا، کیونکہ دارالخلد اور آخرت کی طرف رجوع وہی شخص کرتا ہے جو نیک کام کرتا ہے کیونکہ نیک کاموں کی جزاء دارالخلد اور جنت ہے اور جب دنیا کی حرص کی آگ ٹھنڈی ہوجاتی ہے تو وہ دنیا کی صرف اتنی چیزوں پر کفایت اور قناعت کرتا ہے جو اس کی رمق حیات قائم کرنے کے لیے ضروری ہوں۔ لہٰذا وہ دنیا سے دور بھاگتا ہے اور جب اس کا تقوی مکمل اور مستحکم ہوجاتا ہے تو وہ ہر چیز میں احتیاط کرتا ہے اور جن چیزوں میں عدم جواز کا شک بھی ہو ان کے قریب نہیں جاتا اور یہی موت سے پہلے موت کی تیاری ہے اور یہ اس کی شرح صدر کی ظاہری علامت ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے جس اس کو موت کی فکر ہوتی ہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ دنیا دھوکے کا گھر ہے اور یہ سمجھ اس وقت آتی ہے جس اس کے دل میں میں نور داخل ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد فرمایا :” پس ان لوگوں کے لیے عذاب ہے جن کے دل اللہ کی یاد کرنے کی بجائے سخت ہوگئے ہیں، وہی کھلی ہوئی گمراہی میں ہیں”۔ انسان کے دل میں اللہکے نور کا معیار اور اس کی علامتیں


ماخوذ از کتاب: ۔

تبیان القران از غلام رسول سعیدی

Related Articles:انسان کے دل میں اللہ کے نور کا معیار اور اس کی علامتیں

نبی اکرم ﷺ کے وصال کے بعد کے واقعات

عشق مصطفی ﷺ میں آنسوؤں کی جھڑیاں

غزوۃ الا حزاب کے معجزات اور واقعات

سورة الاحزاب کا مختصر تعارف اور زمانہ نزول

انسان کے دل میں اللہ کے نور کا معیار اور اس کی علامتیں