حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کی جرأت و محبت

ایک لمحہ رک کر حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کی جرأت و محبت کو بھی پڑھ لیجئے ۔

     امام شعبی بیان کرتے ہیں’ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے پوچھا جب تم اسلام لائے تو اس وقت مشرکین کی طرف سے تم پر کیسے گذری ؟ حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ نے کہا اے امیر المومنین

انظر ظہری

میری ( حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کی ) پشت پر نظر ڈالو

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی پشت دیکھ کر فرمایا

مارأیت کالیوم ظھر رجل

میں نے آج تک ایسی زخمی پشت کسی کی نہیں دیکھی

حضرت خباب بن ارت

اس پر حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ان زخموں کا سبب یہ ہے

لقد اوقدت نار وسحبت علیھا ما اطفأھا الا ودک ظھری

(اسد الغابۃ ، ۲ =۱۱۵)

آگ جلا کر مجھے( حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ ) اس میں اوندھا کر کے ڈال دیا جاتا اور اس کے انگارسے میری پشت کی چربی پگھلنے سے ہی بجھتے

پھر وہاں سے نکال کر پوچھتے اب تو دین الہٰی کو مانے گا؟ میں ان کے جواب میں کہتا یہ آگ’ انگارے اور اس کی تپش میرے(حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کے) سینے سے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کو خارج کرنے کے بجائے اس میں اضافہ اور تپش پیدا کر رہے ہیں۔

    ذرا حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے عشق و محبت کی مستی سے کچھ لذت لیجئے’ کون سا ظلم کا پہاڑ اس عاشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نہیں ڈھایا گیا’ گرم ریت پر لٹا کر ان کے پیٹ پر بھاری پتھر رکھ دیئے جاتے’ تا کہ حرکت نہ کر سکیں’ بچوں کے حوالے کر دیا جاتا۔

جعلوا یلعبون بہ بین اخشی مکۃ فاذا ملوا ترکوہ

(اسد الغابۃ، ۱ = ۲۴۵)

جو انہیں مکہ کی گلیوں میں گھسیٹتے پھرتے جب بچے تھک جاتے پھر انہیں چھوڑتے۔

        چشم فلک نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جیسا جانثار’ حضرت بلال رضی اللہ عنہ جیسا عاشق’ حضرت حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ جیسا وفادار’ حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ جیسا دیوانہ‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ جیسا موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بستر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر لیٹنے والا اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ جیسا محب کبھی نہیں دیکھا نہ ان سے پہلے نہ ان کے بعد۔


  ماخوذ از کتاب:  مشتاقان جمال نبوی کی کیفیات جذب و  مستی

مصنف :   بدر المصنفین شیخ الحدیث محقق العصر حضرت مولانا مفتی محمد خان قادری(بانی ، جامعہ اسلامیہ لاہور)۔

Please follow and like us:

One thought on “حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کی جرأت و محبت

Enjoy this ? Please spread the word :)