تحریک پاکستان میں علماء اہل سنت کا کردار

تحریک پاکستان )  مرد وہ ہیں جو زمانے کو بدل دیتے ہیں )

    تاریخ کیا ہے ؟ عجیب دو دھاری تلوار ہے ۔یہ مخالفت و موافقت کے تمام پہلوؤں کو نکھار کر پیش کرتی ہے ۔اگر کسی قوم کے پاس اس کی صحیح تاریخ موجود ہو تو وہ قوم اپنے ماضی کے تجربات کے آئینے میں اپنے حال کو درخشندہ اور مستقبل کو تابندہ بنا سکتی ہے۔ آج ہماری تاریخ آزادی کو صاحبانِ قلم و قرطاس کے تعصب نے سراسر خلاف حقیقت اور مسموم کر کے رکھ دیا ہے ۔ بقول مفتی جلال الدین صاحب

ایک خاص ذہن کے حامل آزادی کی کہانی لکھنے والوں نے نہ جانے کس مصلحت کے تحت ہمیشہ علماء عظام کے کردار کو مسخ کرنے کی سعیِ مذموم کی ہے ۔ تعصب اور عناد کی رو میں بہہ کر انصاف کا دامن چھوڑنے والوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ان کا یہ رویہ اور عمل بھی تاریخ محفوظ کر رہی ہے۔

(پاکستان بنانے والے علماء و مشائخ: جلالدین قادری ۔ ص:۱۲ : عالمی دعوت اسلامیہ مطبوعہ ۳۔۱۹۹۷)

حقائق بحر حال حقائق ہیں ۔ جھوٹ و افترا کی ہزار ہا تہیں بھی اس نور کو دھندلا نہیں سکتیں۔

    تاریخ پاکستان در حقیقت جنوبی ایشیاء کے مسلمانوں کی تحریک آزادی سے عبارت ہے ۔ مملکت خدا داد کے مطالبے پر مبنی تحریک کو شروع کرنے ، برصغیر کے کونے کونے تک پہچانے اور مسلمانوں کو اس میں شامل کرنے کے لیے سعی و جدوجہد کا سہرا جہاں قائداعظم اور ان کے رفقا کے سر سجا وہاں علماء کرامِ اہلِ سنت کی مساعی جمیلہ نے بھی نہایت اہم کردار ادا کیا ۔ان اکابر علماء کرام کے لیے جذبہِ احسان شناسی کا تقاضہ ہے کہ ان کی شاندار خدمات کو خراج تحسین پیش کیا جائے اور نسل نو کو ان کے کردار سے اگاہ کیا جائے ۔ ذیل میں علماء اہل

آل انڈیا سنی کانفرنس

 سنت کی تحریک پاکستان کے سلسلے میں کی جانے والی چند خدمات کا تذکرہ کیا جائے گا۔

            تحریک پاکستان کی اشاعت میں آل انڈیا سنی کانفرس نہایت اہمیت کی حامل ہیں۔اس کانفرس کا پہلا جلسہ1925، دوسرا 1935 اور تیسرا 1946 کوبنارس میں منعقد ہوا جس میں 500 مشائخ ،7000 علماء کرام اور دو لاکھ(200000) سے زائد عوام نے شرکت کی ۔

(سید اختر حسین سیرت امیر ملت ۔ ص:۴۴۱)

     اس کانفرس میں یہ متفقہ قرار داد منطور ہوئی۔

 آل انڈیا سنی کانفرس کا یہ اجلاس مطالبہ پاکستان کی پرزور حمایت کرتا ہے اور علان کرتا ہے کہ علماء اہل سنت اسلامی حکومت کے قیام کی تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے ہر امکانی قربانی کے لےے تیار ہیں اور اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ ایک ایسی اسلامی حکومت قائم کریں جو قرآن و حدیث کی روشنی میں فقہی اصول کے مطابق ہو ۔

(ماہنامہ میثاق لاہور، ستمبر ۱۹۸۵ ۔ ص:۲۶ )

(کل پاکستان سنی کانفرس کے پس منظر کا اجمالی مطالعہ ۔ ص: ۱۸)

(محمد صادق قصوری : اکابر تحریک پاکستان ۔ ص:۲۷۲)

بلکہ بات یہاں تک پہنچی کہ

 آل انڈیا سنی کانفرس اپنے اس مطالبے کو کسی حال میں ترک نہیں کرسکتی ، خواہ مسٹر جناح اس کے حامی رہیں یا نہ رہیں ۔

(ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی ؛ علماء میدان سیاست میں ۔ ص: ۴۴۰)

تحریک پاکستان کے مخالفین کی گواہی

تحریک پاکستان کے مخالفین کی گواہی بھی پیش خدمت ہے۔

” مسلم لیگ مولوی اور پیروں کی مدد سے کامیاب ہوئی ہے۔مولوی اور پیروں نے ”اسلام خطرے میں ہے” کا نعرہ لگایا اور ووٹروں کو غضب الہی سے ڈرا کر مسلم لیگ کی کامیابی کے لیے میدان صاف کیا۔

(ہندو اخبارات)

( تحریک پاکستان نوائے وقت کے اداریوں کی روشنی میں:سرفراز حسین مرزا ص:۴۹۱)

( ماہنامہ کنزالایمان لاہور ، اگست ۱۹۹۵ تحریک پاکستان نمبر ۔ ص: ۱۸۰)

امام احمد رضا خان

    امام احمد رضا کے مذہبی و سیاسی فکر کا محور دو قومی نظریہ تھا ۔ مولانا محمد علی جوہر ‘ جو اس زمانے میں ہندو مسلم اتحاد کے حامی تھے ــ’ جب انہوں نے مولانا کو اپنی تحریک میں شمولیت کی دعوت دی تو آپ نے فرمایا

 میری اور آپ کی سیاست میں فرق ہے۔ آپ ہندو مسلم اتحاد کے حامی ہیں’ میں مخالف ہوں۔

پھر فرمایا۔

    ” میں مکمل آزادی کا مخالف نہیں ‘صرف ہندو مسلم اتحاد کا مخالف ہوں ۔”

(اعجازالحق قدوی : اقبال اور علمائے پاک و ہند اقبال اکادمی لاہور ۱۹۷۷)

(محمد مسعود احمد ۔فاضل بریلوی اور ترک موالات ۔ ص: ۴۵)

( کل پاکستان سنی کانفرس کا اجمالی مطالعہ ۔ ص :۱۵)

تحریک پاکستان

پیر مہر علی شاہ صاحب

    پیر مہر علی شاہ صاحب بھی تحریک ِپاکستان کے سرگرم کارکن تھے آپ کا یہ تاریخی فتویٰ کانگرس سے مسلمانوں کی بیزاری کا باعث بنا۔

 

” مسلمانوں کی ہندو کانگرس میں شمولیت اسلام کے سراسر خلاف اور ناجائز ہے ۔”

(ایڈوکیٹ ولی مظہر : عظمتوں کے چراغ، حصہ سوم ، مجلس کارکنان تحریک پاکستان ۔، ملتان ۱۹۸۹ :ص:۱۷۲)

پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری:۔   

    آپ نے بھی تحریک پاکستان کے لیے گراں قدر خدمت سر انجام دیں۔ خصوصاََ آپ کا یہ فتویٰ تو مسلم لیگ کی حمایت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔

”جو مسلم لیگ کا مخالف ہے خواہ کوئی بھی ہو اگر وہ مر جائے تو اس کا جنازہ نہ پڑھا جائے ۔”

(شبیر احمد ہاشمی ؛ حیات فقیہ اعظم ، انجمن حزب الرحمن بصیر پور ۱۹۸۳ ۔ صـ: ۹۵)

علامہ عبدالعلیم صدیقی: ۔

    دنیاوی حکومتوں کے قوانین لمحہ بہ لمحہ’ شب و روز’ ترمیم و اضافے کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں مگر اس مافوق الفطرت نبی ﷺ کا لایا ہوا قرآنی نظام عمل زمانہ ہائے ماضی’ حال اور مستقبل پر حاوی ہے ۔ اس لیے میں مسلمانوں کے مجوزہ وطن کو” قدرتی پاکستان ”کہتا ہوں ۔ ہمارے علماء و مشائخ نے اپنی روحانی قوتوں سے خانقاہوں سے پاکستانی لشکر کی تعلیم و تربیت کی اور اب مسلمانوں کے لیے” قدرتی پاکستان” مقدر بن چکا ۔

(خواجہ رضی حیدر :شاہ عبدالعلیم اور ان کی سیاسی جدو جہد مشمولہ مجلہ مینارہ کراچی ، نومبر ۱۹۸۰ :ص: ۲۹)

( انوار رضا جوہر آباد ۔ ص: ۲۹۶ : تاجدار بریلی نمبر ۔ ص:۲۰۰۳)  

ٍ     تحریک پاکستان کے سلسلے میں گولڈ میڈل حاصل کرنے والوں کی فہرست پر نظر ڈالنے سے ہر حقیقت پسند شخص یہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ جو لوگ موجودہ دور میں بانیِ پاکستان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ان میں سے کسی ایک کا نام بھی شامل نہیں جبکہ درج ذیل سنی علماء کرام کے اسم گرامی شامل ہیں

( مولانا بشیر احمد اخکر  ( گولڈ میڈلسٹ تحریک پاکستان 

(مولانا مسلم بخش ( گولڈ میڈلسٹ تحریک پاکستان 

( پیر جماعت علی شاہ صاحب ( گولڈ میڈلسٹ تحریک پاکستان 

(پیر سیال شریف( گولڈ میڈلسٹ تحریک پاکستان 

(مولانا مرتضیٰ احمد خان میکش( گولڈ میڈلسٹ تحریک پاکستان 

(مولانا عبدالستار خان نیازی( گولڈ میڈلسٹ تحریک پاکستان 

(مولانا انور عزیز چشتی( گولڈ میڈلسٹ تحریک پاکستان 

(خواجہ حافظ غلام سید الدین ( گولڈ میڈلسٹ تحریک پاکستان 

(علامہ ابوالحسانات شاہ صاحب ( گولڈ میڈلسٹ تحریک پاکستان 

(پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑہ شریف( گولڈ میڈلسٹ تحریک پاکستان 

(  مجلہ اوج : لاہور ۹۱ـ۔۱۹۹۰ :قراداد پاکستان گولڈن جوبلی نمبر ص:۱۹۲۔۱۹۳۔۱۹۴۔۱۹۷)

( ماہنامہ کنزالایمان لاہور ؛ اگست ۱۹۹۵ء تحریک پاکستان نمبر ص: ۲۰۲ )

  (مقالہ نگار:    حافظ محمد حمزہ)

   

Please follow and like us:

Enjoy this ? Please spread the word :)