تابعی کی تعریف۔ تابعی (تابعیت) کون ہوتا ہے؟

تابعی اس مسلمان کو کہتے ہیں جس نے کسی صحابی رسول ﷺ کی زیارت کی ہو۔

حافظ ابن حجر عسقلانی تابعیت کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں ۔

التابعی وھو من الصحابی
(نزھتہ النظر،١٠٢)

تابعی وہ شخص ہے جس نے کسی صحابی سے ملاقات کی ہو۔
جمہورآئمہ اصول حدیث اور محدثین کی یہی رائے ہے۔

مولانا عبدالحی لکھنوی رقم طراز ہیں
ثم اعلم ان جمہور علماء اصول الحدیث علی ان الرجل بمجرد اللقی والرؤ یہ للصحابی یصیر تابعاً (اقامہ الحجہ، ٨٥)۔

واضح رہے کہ جمہور علماء اُصول حدیث کی یہی رائے ہے کہ فقط ملاقات اور صحابی کی زیارت سے آدمی تابعیت کا درجہ پا لیتا ہے ۔

تابعی کی تعریف

حتی کہ سخاوی لکھتے ہیں کہ اگر کسی مسلمان کو صحابی نے دیکھ لیا تو اس سے آدمی تابعیت کا درجہ پا لیتا ہے ،تابعی نابینا تھے اور انہیں کسی صحابی نے دیکھ لیا ۔

فالتابع للاقی ممن قد صحب النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم واحدا فاکثر سواء کانت الرؤیہ من الصحابی نفسہ حیث کان التابعی اعمی او بالعکس او کانا جمیعاً کذلک یصدق انھما تلاقیاوسواء کان ممیزاام لا سمع منہ ام لا (فتح المغیث،٣٩٥)

تابعی وہ شخص ہوتا ہے جس نے کسی ایک یا ایک سے زائد صحابی رسول ﷺ کی صحبت پائی ہو خود صحابی نے اس کو دیکھا ہو بایں طور کہ تابعی نابینا ہو یا اس کے برعکس ہو کہ صحابی نابینا ہو یا دونوں ہی نابینا ہوں تب ہی یہ بات صادق آئے گی کہ انہوں نے باہم ملاقات کی خواہ وہ تابعی سن تمیز کو پہنچا ہو یا نہ اور خواہ اس نے صحابی سے سماع کیا ہو یا نہ کیا ہو ۔

مزید تفصیل کے لیے : تابعیت کے درجے کی فضیلت ۔قرآن اور فضیلت تابعیت

ماخوذ از کتاب:   امام اعظم ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کا تابعی ہو نا
مصنف :    بدر المصنفین شیخ الحدیث محقق العصر حضرت مولانا مفتی محمد خان قادری(بانی ، جامعہ اسلامیہ لاہور)۔

Please follow and like us:

Enjoy this ? Please spread the word :)