آیت حجاب نازل ہونے کے متعلق احادیث و آثار

آیت حجاب نازل ہونے کے متعلق احادیث

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں نے کہا یا رسول اللہ ! آپ کے پاس نیک اور بد ہر قسم کے لوگ آتے ہیں ‘ کاش آپ امہات المومنین کو حجاب میں رہنے کا حکم دے دیں تو اللہ تعالیٰ نے آیت حجاب کو نازل کردیا۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٧٩٠۔ ٤٠٢‘ مسند احمد رقم الحدیث : ٢٥٠۔ ١٦٠۔ ١٥٧‘ عالم الکتب بیروت)

آیت حجاب کا شان نزول

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نکاح ‘ اللہ نے حضرت زینب بنت حجش (رض) سے کردیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں کی دعوت کی ‘ انہوں نے کھانا کھایا پھر بیٹھ کر باتیں کرنے لگے ‘ اور اس وقت ایسے لگا جیسے آپ جانے لگے ہوں ‘ لیکن مسلمان نہیں اٹھے ‘ جب آپ نے یہ دکھا تو آپ کھڑے ہوگئے ‘ جب آپ کھڑے ہوئے تو مسلمانوں میں سے بھی بعض کھڑے ہوگئے اور تین شخص بیٹھے رہے ‘ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حجرے میں داخل ہونے کے لیے آئے اور وہ لوگ اسی طرح بیٹھے رہے ‘ پھر وہ اٹھ کھڑے ہوئے ‘ میں نکل کر گیا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور آپ کو بتایا کہ وہ لوگ چلے گئے ہیں ‘ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے حتیٰ کہ حجرے میں داخل ہوگئے ‘ میں بھی داخل ہونے لگا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال دیا اور اللہ تعالیٰ نے آیت حجاب نازل فرمادی 

آیت حجاب
       یایھا الذین امنوا لا تدخلوا بیوت النبی

(الاحزاب : ٥٣ )

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٧٢١‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٤٢٨‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٢١٨‘ مسند احمد رقم الحدیث : ١٢٦٩٨)

(آیت حجاب ، آیت حجاب )
حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اہل کے ساتھ شادی کی ‘ میری ماں حضرت ام سلیم (رض) نے حیس (کھجور ‘ گھی اور ستو سے بنایا ہوا کھانا) بنایا ‘ انہوں نے اس کو ایک تھال میں رکھا ‘ اور کہا اے انس ! یہ کھانا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے جاو اور کہو کہ یہ کھانا میری ماں ام سلیم نے آپ کے پاس بھیجا ہے وہ آپ کو سلام کہہ رہی ہیں اور کہتی ہیں یا رسول اللہ ! یہ ہماری طرف سے بہت تھوڑا سا کھانا ہے۔ حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ میں اس کھانے کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں لے گیا اور بتایا کہ میری ماں آپ کو سلام کہہ رہی ہیں اور کہا ہے کہ یہ ہماری طرف سے بہت تھوڑا ساکھانا ہے ‘ آپ نے فرمایا اس کو رکھ دو ‘ پھر فرمایا جاو اور فلاں ‘ فلاں اور فلاں کو بلا کر لاو ‘ اور جن سے تمہاری ملاقات ہو ‘ سو آپ نے کئی لوگوں کے نام لیے ‘ حضرت انس نے کہا آپ نے جن جن کے نام لیے تھے میں نے ان کو بلایا اور جن سے میں ملا ان کو بھی بلایا 

ابو عثمان راوی نے حضرت انس سے پوچھا تم لوگوں کی تعداد کتنی تھی ؟ انہوں نے کہا اندازاً تین سو مسلمان تھے اور مجھ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے انس وہ تھال (خوان) لائو ‘ حضرت انس نے کہا پھر مسلمان آئے حتی کہ (صفہ) مسجد نبوی کا چبوترہ اور حجرہ بھر گیا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دس دس افراد کا حلقہ بنا لو اور ہر شخص اپنے آگے سے کھائے ‘ حضرت انس نے کہا ان لوگوں نے کھانا کھایا حتی کہ وہ سیر ہوگئے ‘ پھر مسلمانوں کی وہ جماعت چلی گئی اور دوسری جماعت آگئی حتی کہ سب نے کھانا کھالیا ‘ حضرت انس نے کہا پھر آپ نے مجھ سے فرمایا اب کھانا اٹھا لو ‘ حضرت انس کہتے ہیں مجھے پتا نہیں جس وقت میں نے کھانا رکھا اس وقت زیادہ تھا یا اب زیادہ تھا 

لوگوں کے کچھ گروہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر میں بیٹھ کر باتیں کرتے رہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھے ہوئے تھے ‘ اور آ پکی زوجہ دیوار کی طرف منہ کر کے بیٹھی ہوئی تھیں ‘ یہ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طبیعت پر بوجھ بنے ہوئے تھے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر نکلے ‘ اپنی ازواج کو سلام کیا ‘ پھر لوٹ آئے ‘ جب انہوں نے دیکھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوٹ آئے ہیں تو انہوں نے گمان کیا کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طبیعت پر بوجھ بنے ہوئے ہیں ‘ وہ سب دروازے کی طرف لپکے اور سب کے سب آپ کے گھر سے نکل گئے ‘ رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر میں آئے حتی کہ آپ نے پردہ ڈال دیا ‘ آپ جس وقت داخل ہوئے تو میں گھر میں بیٹھا ہوا تھا ‘ آپ تھوڑی دیر ٹھہرے تھے کہ میرے پاس آئے اور آپ پر آیت حجاب نازل ہوئیں ‘ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر آئے اور آپ نے لوگوں کے سامنے یہ آیات پڑھیں 

یایھا الذین امنوا لا تدخلوا بیوت النبی الا ان یؤذن لکم الایۃ

(الاحزاب : ٥٣ )

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں میں اس وقت لوگوں میں سب سے کم سن تھا جبآیت حجاب نازل ہوئیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج مطہرات نے پردہ کرلیا۔ یہ حدیث صحیح ہے۔

(صحیح مسلم النکاح : ٤٩‘ رقم الحدیث : بلاتکرار : ١٤٢٨‘ الرقم المسلسل : ٣٤٤٤‘ سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٢١٨‘ صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥١٦٣‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٣٣٨٧‘ السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث : ٦٦١٨‘ مسند احمد ٣ ص ١٦٣‘ المستدرک ج ٢ ص ٤١٧)

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت زینب بنت حجش (رض) کا ولیمہ کیا اور روٹیوں اور گوش کی دعوت کی ‘ سو مجھے کھانے کی دعوت کا پیغام دے کر بھیجا گیا ‘ مسلمانوں کا ایک گروہ آتا اور کھانا کھا کر چلا جاتا ‘ پھر دوسرا گروہ آتا اور وہ کھانا کھا کر چالا جاتا ‘ سو میں لوگوں کو بلاتا رہا حتی کہ سب لوگ آچکے اور اب بلانے کے لیے کوئی نہیں بچا ‘ پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس حجرے سے نکل کر حضرت عائشہ (رض) کے حجرے کی طرف گئے ‘ آپ نے فرمایا اے اہل بیت السلام علیکم ورحمتہ اللہ ! حضرت عائشہ نے جواب دیا وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ ! آپ نے اپنے اہل (بیوی) کو کیسا پایا ! اللہ آپ کو برکت دے ‘ پھر آپ اپنی تمام ازواج کے حجروں میں گئے اور سب سے اسی طرح کلام کیا جس طرح حضرت عائشہ (رض) سے کلام کیا تھا ‘ اور سب ازواج اسی طرح جواب دیا جس طرح حضرت عائشہ نے جواب دیا تھا ‘ پھر آپ گھر واپس آئے تو تین آدمی ابھی تک گھر میں بیٹھے ہوئے باتیں کررہے تھے ‘

اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سخت حیا (لحاظ اور مروت) والے تھے ‘ آپ پھر حضرت عائشہ (رض) کے حجرے کی طرف چلے گئے ‘ مجھے یاد نہیں کہ میں نے آپ کو خبردی تھی یا کسی اور نے کہ وہ لوگ چلے گئے ‘ آپ واپس آئے حتی کہ ابھی آپ کا ایک پیردروازے کی چوکھٹ میں تھا اور دوسرا پیر باہر تھا کہ آپ نے اپنے اور میرے درمیان پردہ لٹکا دیا اور آیت حجاب نازل ہوگئی۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٧٩٣‘ صحیح مسلم النکاح : ٨٩۔ ٩٣‘ رقم بلاتکرار : ١٤٢٨‘ الرقم المسلسل : ٣٤٣٩۔ ٣٤٤٣۔ ٣٤٤٤ )

 


ماخوذ از کتاب: ۔

تبیان القران از غلام رسول سعیدی

Please follow and like us:

Enjoy this ? Please spread the word :)