نفلی صدقہ کرنے میں کیا چیز اسراف ہے اور کیا نہیں

نفلی صدقہ کرنے میں کیا چیز اسراف ہے اور کیا نہیں

نفلی صدقہ کرنے میں کیا چیز اسراف ہے اور کیا نہیں :۔

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے اور بےجا خرچ نہ کرو بیشک بےجا خرچ کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
اہل لغت کے اسراف میں دو قول ہیں۔ ابن الاعرابی نے کہا حد سے تجاوز کرنا اسراف ہے اور شمر نے کہا نفلی صدقہ کرنے میں کیا چیز اسراف ہے مال کو لغو اور بےفائدہ کاموں میں خرچ کرنا اسراف ہے۔ (لسان العرب ‘ ج ٩‘ ص ١٤٨‘ مطبوعہ ایران)۔ 
انسان جب اپنا مال صدقہ کر دے اور اپنے اہل و عیال کے لیے کچھ نہ چھوڑے تو یہ بھی اسراف ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :۔ 
(آیت) ” ولا تبسطھا کل البسط فتقعد ملوما محسورا “۔ (الاسراء : ٢٩)

ترجمہ : اور نہ اپنا ہاتھ پوری طرح کھول دے کہ بیٹھا رہے ملامت کیا ہوا تھکا ہارا۔

نفلی صدقہ کرنے میں کیا چیز اسراف ہے
ابن جریج نے کہا یہ آیت ثابت بن قیس بن شماس کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ انہوں نے اپنے درخت سے کھجوریں توڑیں اور کہا آج جو شخص بھی آئے گا میں اس کو کھلاؤں گا پھر وہ لوگوں کو کھجوریں کھلاتے رہے حتی کہ شام ہوگئی اور ان کے پاس ایک کھجور بھی باقی نہیں بچی۔نفلی صدقہ کرنے میں کیا چیز اسراف ہے تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی کہ بےجا خرچ نہ کرو ‘ بیشک اللہ بےجا خرچ کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

(جامع البیان ‘ جز ٨ ص ٨١‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٤١٥ ھ) 

حضرت حکیم بن حزام (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا:۔

بہترین صدقہ وہ ہے جو خوشحالی کی حالت میں دیا جائے اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور صدقہ کی ابتداء اپنے عیال سے کرو۔
(صحیح مسلم ‘ الزکوۃ ٩٥‘ (١٠٣٤) ٢٣٤٨‘ سنن النسائی ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٢٥٤٣‘ صحیح البخاری ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ٥٣٥٦)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :نفلی صدقہ کرنے میں کیا چیز اسراف ہے افضل صدقہ وہ ہے جو خوشحال چھوڑے ‘ اوپر والا ہاتھ نچلے ہاتھ سے بہتر ہے۔ صدقہ کی ابتداء اپنے عیال سے کرو ‘ بیوی کہے گی مجھے کھلاؤ یا مجھے طلاق دو ‘ نوکر کہے گا مجھے کھلاؤ اور مجھ سے کام لو ‘ بیٹا کہے گا مجھے کھلاؤ مجھے کس پر چھوڑتے ہو ؟

(صحیح البخاری ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ٥٣٥٥‘ مسند احمد ج ٢‘ ص ٢٤٥‘ المنتقی ‘ رقم الحدیث :‘ ٧٥١‘ مسند القضاعی ‘ رقم الحدیث :‘ ١٢٣٢)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اصحاب سے فرمایا صدقہ کرو ‘ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس ایک دینار ہے آپ نے فرمایا اس کو اپنے نفس پر خرچ کرو۔ نفلی صدقہ کرنے میں کیا چیز اسراف ہے۔ اس نے کہا میرے پاس ایک اور دینا رہے آپ نے فرمایا اس کو اپنی بیوی پر خرچ کرو اس نے کہا میرے پاس ایک اور دینار ہے۔ آپ نے فرمایا اس کو اپنی اولاد پر خرچ کرو۔ اس نے کہا میرے پاس ایک اور دینار ہے۔ آپ نے فرمایا تم کو زیادہ معلوم ہے یعنی تم کو زیادہ معلوم ہے تمہارے رشتہ داروں میں کون زیادہ ضرورت مند ہے ؟ اس کودو۔

(سنن ابو داؤد ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ١٦٩١‘ سنن النسائی ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٢٥٣٤‘ مسند الشافعی ‘ ج ٢‘ ص ٦٤۔ ٦٣‘ مسند احمد ‘ ج ٢‘ ص ٤٧١‘ ٢٥١‘ صحیح ابن حبان ‘ ج ٨‘ رقم الحدیث :‘ ٣٣٣٨‘ المستدرک ‘ ج ١ ص ٤١٥‘ سنن کبری للبیہقی ‘ ج ٧ ص ٤٦٦)

حضرت طارق محاربی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا دینے والے کا ہاتھ بلند ہوتا ہے اور صدقہ کی ابتداء اپنے عیال سے کرو۔ اپنی ماں ‘ اپنے باپ ‘ اپنی بہن اور اپنی بھائی کو دو ۔ پھر جو تمہارے زیادہ قریب ہوں اور جو ان سے قریب ہوں۔

(سنن النسائی ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٢٥٣١‘ صحیح ابن حبان ‘ ج ٨‘ رقم الحدیث :‘ ٣٣٤١‘ سنن دارقطنی ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٢٩٥٧‘ مصنف ابن ابی شیبہ ‘ ج ٣ ص ٢١٢‘ المعجم الکبیر ‘ ج ٨‘ رقم الحدیث :‘ ٨١٧٥‘ سنن کبری للبیقہی ‘ ج ٨ ص ٣٤٥‘ مسند احمد ‘ ج ٣ ص ٦٤)

نفلی صدقہ کرنے میں کیا چیز اسراف ہے اور کیا نہیں
ان احادیث میں ماں باپ اور بیوی بچوں پر جو صدقہ کی ابتداء کرنے کا حکم ہے اس سے مراد صدقہ نفلیہ ہے ‘ کیونکہ صدقہ واجبہ کو ان پر خرچ کرنا جائز نہیں ہے۔ جس شخص کا دل مضبوط ہو اور اس کا نفس مستغنی ہو ‘ اور وہ اللہ تعالیٰ پر متوکل ہو اور وہ اکیلا ہو ‘ اس پر ماں باپ ‘ بیوی ‘ بچوں اور بہن بھائیوں کی ذمہ داری اور ان کی پرورش کا بار نہ ہو اور وہ مالی حقوق سے متعلق اللہ تعالیٰ کے تمام فرائض ادا کرچکا ہو تو وہ اگر اللہ کی راہ میں اپنا سارا مال خرچ کر دے تو یہ جائز ہے اور اسراف نہیں ہے۔

امام عبدالرحمن بن محمد بن ادریس رازی ابن ابی حاتم متوفی ٣٢٧ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :۔ 
مجاہد نے کہا اگر تم ابو قیس (ایک پہاڑ) کے برابر سونا بھی اللہ کی اطاعت میں خیرات کردو تو یہ اسراف نہیں ہے اور اگر تم ایک صاع (چار کلو) بھی اللہ کی معصیت میں خرچ کرو تو یہ اسراف ہے۔ (رقم الحدیث : ٧٩٦٤ )۔

(تفسیر امام ابن ابی حاتم ‘ ج ٥‘ ص ١٣٩٩‘ مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الریاض ‘ ١٤١٧ ھ)

امام ابو الشیخ نے سعید بن جبیر سے روایت کیا ہے کہ ابو بشر نے بیان کیا کہ نفلی صدقہ کرنے میں کیا چیز اسراف ہے لوگوں نے ایاس بن معاویہ سے پوچھا اسراف کیا ہے ؟ انہوں نے کہا جب تم اللہ کے حکم سے تجاوز کرو تو یہ اسراف ہے۔ سفیان بن حسین نے کہا جب تم اللہ کے حکم میں کمی کرو تو یہ اسراف ہے۔

(درمنثور ‘ ج ٣‘ ص ٣٦٩‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٤ ھ)


ماخوذ از کتاب: ۔

تبیان القران از غلام رسول سعیدی