نبی کی ذات میں عبادات اور معاملات کا نمونہ ہے۔

 نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات میں عبادات اور معاملات کا نمونہ ہے۔

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللّٰهَ وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَكَرَ اللّٰهَ كَثِيْرًا  21۝ۭ

 علامہ قرطبی نے یہ لکھا ہے کہ یہ آیت ان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی ہے جو غزوہ خندق میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چھوڑ کر چلے گئے تھے یا جو آپ سے میدان جنگ سے چلے جانے کی اجازت طلب کررہے تھے ، اس کے بر خلاف علامہ سید محمود آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ کی یہ تحقیق ہے کہ یہ آیت مخلص مومنین کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ (روح المعانی جز ٢١ ص ٢٥٣ )۔نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات میں عبادات اور معاملات کا نمونہ ہے۔

سعید بن یسار بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کے ساتھ مکہ کے راستہ میں سفر کررہا تھا ، سعید کہتے ہیں کہ جب مجھے یہ خدشہ ہوا کہ اب صبح ہونے والی ہے تو میں نے کہا مجھے صبح کا خوف ہوا تو میں نے سواری سے اتر کر وتر پڑھے ، حضرت عبداللہ بن عمر نے کہا کیا تمہارے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات میں اچھا نمونہ نہیں ہے ؟ میں نے کہا کیوں نہیں ! اللہ کی قسم ! حضرت ابن عمر نے کہا بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اونٹ پر وتر کی نماز پڑھ لیتے تھے۔نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات میں عبادات اور معاملات کا نمونہ ہے۔

(صیح البخاری رقم الحدیث : ٩٩٩، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٧٠٠، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٤٧٢، سنن النسائی رقم الحدیث : ٠ ٤٩ )

ائمہ ثلاثہ یہ کہتے ہیں کہ وتر کی نماز نفل ہے اور وہ اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سواری پر وتر کی نماز پڑھی ہے ، اسکا جواب یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وتر کی نماز کو واجب قرار دینے سے پہلے وتر کی نماز سواری پر پڑھی کیونکہ امام طحاوی نے سند صحیح کے ساتھ حضرت ابن عمر سے ہی روایت کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نفل سواری پر پڑھے اور وتر سواری سے اتر کر پڑھے ، اور حضرت ابن عمر نے اس حدیث کی کوئی توجیہ کرلی ہوگی۔ وتر کے وجوب کی دلیل یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو آدمی سو جانے کی وجہ سے یا بھول جانے کی وجہ سے وتر نہ پڑھ سکے وہ صبح کو وتر پڑھ لے۔نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات میں عبادات اور معاملات کا نمونہ ہے۔

۔(سنن الترمذی رقم الحدیث : ٤٦٦)۔

اور قضا واجب کی ہوتی ہے نفل کی قضا نہیں ہوتی۔نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات میں عبادات اور معاملات کا نمونہ ہے۔

(عمدۃ القاری ج ٧ ص ٢١۔ ٠ ٢، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ، ١٤٢١ ھ)

حضرت ابن عمر (رض) سے یہ سوال کیا گیا کہ عمرہ کرنے والے ایک شخص نے بیت اللہ کا طواف کرلیا ، آیا وہ صفا اور مروہ کی سعی سے پہلے عمل تزویج کرسکتا ہے ؟ حضرت ابن عمر نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ آئے آپ نے بیت اللہ کا طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے دور رکعت نماز پڑھی ، اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی ، پھر یہ آیت پڑھی :۔نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات میں عبادات اور معاملات کا نمونہ ہے۔

لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ

(الاحزاب : ٢١)

بیشک تمہارے لیے رسول اللہ کی ذات میں نہایت عمدہ نمونہ ہے۔نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات میں عبادات اور معاملات کا نمونہ ہے۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٦٤٥، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٢٣٤، سنن النسائی رقم الحدیث : ٠ ٢٩٦، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٥٥٩ )

یعلیٰ بن امیہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر (رض) کے ساتھ طواف کیا جب میں اس رکن کے پاس پہنچا جو حجرا سود کے پاس ہے تو میں نے ہاتھ سے اسکو تعظیمدی ، حضرت عمر نے پوچھا کیا تو نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ طواف نہیں کیا ؟ میں نے کہا کیوں نہیں ! حضرت عمر نے کہا کیا تم نے آپ کو اس کی تعظیم کرتے ہوئے دیکھا ؟ میں نے کہا نہیں ! حضرت عمر نے کہا ابھی آپ کا زمانہ زیادہ تو نہیں گزرا ، بیشک تمہارے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات میں نہایت عمدہ نمونہ ہے۔نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات میں عبادات اور معاملات کا نمونہ ہے۔

(مسند احمد ج ١ ص ٣٢، ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ١٨٢)

عیسیٰ بن عاصم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر نے سفر میں دن کے وقت فرض نماز پڑھی ، پھر انہوں نے بعض مسلمانوں کو نفل پڑھتے ہوئے دیکھا تو حضرت ابن عمر (رض) نے کہا اگر میں نفل نماز پڑھوں تو فرض کی پوری چار رکعت پڑھ لوں ، میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حج کیا ہے ، آپ دن میں نفل نماز نہیں پڑھتے تھے ، اور میں نے حضرت ابوبکر (رض) کیساتھ حج کیا۔ وہ بھی دن میں نفل نماز نہیں پڑھتے تھے ، اور میں نے حضرت عمر (رض) کے ساتھ حج کیا وہ بھی دن میں نفل نماز نہیں پڑھتے تھے اور میں نے حضرت عثمان (رض) کے ساتھ حج کیا وہ بھی دن میں نفل نہیں پڑھتے تھے ، پھر حضرت ابن عمر (رض) نے کہا تمہارے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات میں نہایت عمدہ نمونہ ہے۔نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات میں عبادات اور معاملات کا نمونہ ہے۔

(مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٤٤٥٥، طبع جدید ، دارالکتب العلمیہ بیروت ، ١٤٢١ ھ)

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جس شخص نے یہ نذر مانی کہ وہ اپنے آپ کو نحر (ذبح) کرے گا یا اپنے بیٹے کو نحر کرے گا اس کو چاہیے کہ ایک مینڈھے کو ذبح کردے ، پھر یہ آیت تلاوت کی :۔نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات میں عبادات اور معاملات کا نمونہ ہے۔

لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ۔ بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات میں تمہارے لیے نہایت عمدہ نمونہ ہے۔ (الاحزاب : ٢١ )۔

(مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٦١٨٥، دارالکتب العلمیہ بیروت ، ١٤٢١ ھ ، مصنف ج ٨ ص ٤٦٠ قدیم)

اللہ کے ذکر میں کامل اجر کے لیے ضروری ہے کہ وہ ذکر مکمل جملہ ہو اور ذکر کرنے والے کو اس کا معنی معلوم ہو۔نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات میں

عبادات اور معاملات کا نمونہ ہے۔

نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ‏کی ذات میں عبادات اور ‏معاملات کا   بہترین نمونہ ہے

 

اس کے بعد فرمایا ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور قیامت کے دن کی امید رکھتا ہو۔نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات میں عبادات اور معاملات کا نمونہ ہے۔

یعنی وہ شخص عذاب سے نجات ، جنت کے حصول اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے عبادت کرتا ہو ، پھر اس کو اس قید کے ساتھ مقید فرمایا اور اللہ کو بہت یاد کرتا ہو۔نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات میں عبادات اور معاملات کا نمونہ ہے۔

علامہ سید محمود آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں :۔

علامہ نووی نے لکھا ہے کہ شرعاً وہ ذکر معتبر ہوتا ہے جو عربی گرامر کے اعتبار سے مکمل جملہ ہو مثلا کوئی شخص کہے سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر ولا حول ولا قوۃ الا باللہ اور اس طرح کے اور اذکار۔ اور جو جملہ نہ ہو مثلاً اللہ ، القادر ، السمیع ، البصیر تو جو شخص ان اسماء کا ورد کرے تو یہ شرعاً ذکر معتبر نہیں ہے ، جب تک کہ ان الفاظ سے مکمل کلام نہ ہو تو ذکر کرنے والے کو اس ذکر کا ثواب نہیں ملتا ، مثلاً کوئی شخص سبحان اللہ اور لا الہ الا اللہ پڑھتا رہے اور اس کے معنی سے غافل ہو یا اس کے ذہن میں اس کا معتی مستحضر اور ملحوظ نہ ہو تو اس پر اجماع ہے کہ اس کو اس کا ذکر کا ثواب نہیں ملے گا اور لوگ اس سے بھی غافل ہیں ، انا للہ وانا الیہ راجعون !نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات میں عبادات اور معاملات کا نمونہ ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے جن اسماء اور صفات کا ذکر کرے تو اول تو وہ اذکار مکمل جملہ ہوں اور ثانیا یہ کہ اس کو جملہ کا معنی بھی معلوم ہو اور اس کا ذہن اس معنی کی طرف متوجہ ہو۔نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات میں عبادات اور معاملات کا نمونہ ہے۔

(علامہ نووی نے صرف اتنا لکھا ہے کہ اللہ کے ذکر سے مقصود حضور قلب ہے اور یہ اس وقت حاصل وہ گا جب ذکر کے معنی میں آدمی غور کرے گا۔ یہ نہیں لکھا کہ اس کے بغبر ذکر کا ثواب حاصل نہیں ہوگا۔ (کتاب الاذکا رج ١ ص ١٥) اللہ کا نام لینے سے بہر حال اجر ملے گا خواہ جملہ مکمل نہ ہو یا اس کا معنی معلوم نہ ہو لیکن بہرحال کامل اجر اسی صورت میں ملے گا جس طرح علامہ آلوسی نے لکھا ہے۔نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات میں عبادات اور معاملات کا نمونہ ہے۔

 (روح المعانی جز ٢١ ص ٢٥٥، دارالفکر بیروت ، ١٤٢١ ھ)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات میں عبادات اور معاملات کا نمونہ ہے۔


ماخوذ از کتاب: ۔

تبیان القران از غلام رسول سعیدی

Please follow and like us:

Enjoy this ? Please spread the word :)