عالم ارواح میں نبوت حدیث کی تخریج

عالم ارواح میں نبوت

: عالم ارواح میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نبوت کا عطا کیا جانا

:عالم ارواح میں آپ کے لئے نبوت کا ثبوت متعدد احادیث سے ہے، ان میں سے ایک حدیث یہ ہے 

:حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام نے عرض کیا عالم ارواح میں نبوت

یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کے لئے نبوت کب واجب ہوئی فرمایا : جب آدم روح اور جسم کے درمیان تھے۔

 ( سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٦٠٩، المستدرک ج ٢ ص ٦٠٩ دلائل النبوۃ للبیہقی ج ٢ ص 130 مشکوۃ رقم الحدیث : ٥٧٥٨ )

:ملا علی بن سلطان محمد القاری المتوفی ١٠١٤ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں 

یعنی اس حال میں میرے لئے نبوت واجب ہوگئی، جب حضرت آدم (علیہ السلام) کا جسم زمین پر بغیر روح کے رکھا ہوا تھا، اس کا معنی یہ ہے کہ ابھی حضرت آدم (علیہ السلام) کی روح کا تعلق ان کے جسم کے ساتھ نہیں ہوا تھا۔

اس حدیث کو امام ابن سعد نے ابن ابی الجدعا سے روایت کیا ہے۔عالم ارواح میں نبوت

 (الطبقات الکبریٰ ج ١ ص 118، دارالکتب العلمیہ، بیروت 1418 ھ)

 امام ابو نعیم نے ” حلیۃ الاولیاء “ میں میسرۃ الفخر سے روایت کیا ہے۔

(حلیۃ الاولیاء ج ٧ ص ١٢٢، دارالکتاب العربی، ١٤٠٧ ھ)

: امام طبرانی نے المعجم الکبیر “ میں اس حدیث کو ان الفاظ کے ساتھ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے 

کنت نبیا و آدم بین الروح و الجسد۔

 میں اس حال میں نبی تھا، جب حضرت آدم روح اور جسم کے درمیان تھے۔

اسی طرح جامع الاصول (ج ٨ ص ٤١٢۔ رقم الحدیث : ٦٣٥٠) میں ہے۔

 ابن ربیع نے کہا، اس حدیث کو امام احمد نے بھی روایت کیا ہے۔

 (مسند احمد ج ٥ ص ٥٩ طبع قدیم، مسند احمد ج ٣٤ ص ٢٠٢ رقم الحدیث : ٢٠٥٩٦ مئوسستہ الرسالتہ، بیروت)

امام بخاری نے اس حدیث کو اپنی تاریخ میں روایت کیا ہے۔

(التاریخ الکبیر ج ٧ ص 251، رقم الحدیث :10944 دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤٢٢ ھ)

 امام حاکم نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔

 (المستدرک ج ٢ ص 6.9 طبع قدیم، المستدرک رقم الحدیث : ٤٢٠٩، المکتبتہ العصریہ، ١٤٢٠ ھ )

حافظ ذہبی نے بھی کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔عالم ارواح میں نبوت

(المستدرک ج ٢ ص 6.9 طبع قدیم، المستدرک رقم الحدیث : ٤٢٠٩، المکتبتہ العصریہ، ١٤٢٠ ھ )

:  امام ابونعیم نے ” دلائل النبوۃ “ میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے مرفوعاً روایت کیا ہے 

کنت اول النبین فی الخق و آخرھم فی البعث میں تخلیق ۔

میں تمام نبیوں سے پہلا ہوں اور بعثت میں سب کے آخر ہوں۔

 (دلائل النبوۃ رقم الحدیث : ٣، دارالنفائس)

ملا علی قاری نے یہاں تک اس حدیث کے حوالہ جات ذکر کئے ہیں۔عالم ارواح میں نبوت

 (مرقاۃ المفاتیج ج ١٠ ص ٢٨ مکتبہ حقانیہ، پشاور، مرقاۃ المفاتج ج ١١ ص ٥٨ ملتان)

عالم ارواح میں نبوت

:حدیث مذکور کی مزید تخریج

:ہم نے ملا علی قاری کی عبارت کے ضمن میں اس حدیث کی تخریج کی ہے، اب ہم از خود اس حدیث کی تخریج پیش کر رہے ہیں 

مسند احمد ج ٥ ص 127-128

صحیح ابن حبان رقم الحدیث :2093،

 المستدرک ج ٢ ص 600،

السنتہ لابن ابی عاصم رقم الحدیث ٤١٠،

الشریعتہ للآجری ص 416-421

مشکل الآثار للطحاوی رقم الحدیث : ٥٩٧٧

الکامل لابن عدی ج ٤ ص 1186

دلائل العبوۃ للبیہقی ج ۃ 184-185

اسد الغابتہ لابن الاثیر ج ٥ ص 258

تہذیب الکمال للمزی ج ١٤ ص 360،

 الاحادو المشافی رقم الحدیث نے اس حدیث کو امام احمد اور امام طبرانی کی سند سے ذکر کیا ہے اور لکھا ہے، ان دونوں حدیثوں کی سند صحیح ہے،عالم ارواح میں نبوت

 مجمع الزوائد ج ٨ ص 224

الجامع الصغیر رقم الحدیث : ٦٤٢٤

 المداوی رقم الحدیث : ٢٥٨٣

المعجم الصغیر ج ١ رقم الحدیث : ٣٥

:امام محمد بن سعد متوفی ٢٣٠ ھ نے اس حدیث کو حسب ذیل متعدد طرق سے روایت کیا ہے 

حضرت عبداللہ بن شقیق (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا : یا رسول اللہ ! آپ کب نبی تھے ؟ لوگوں نے کہا : چپ کر، چپ کر، تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو چھوڑو، میں نبی تھا اور اس وقت حضرت آدم روح اور جسم کے درمیان تھے۔ ابوالجدعا بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ کب نبی تھے ؟ آپ نے فرمایا : جس وقت حضرت آدم روح اور جسد کے درمیان تھے۔

مطرف بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا : آپ کب نبی تھے ؟ آپ نےفرمایا : جب آدم روح اور مٹی کے درمیان تھے۔

عامر بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا، آپ کو کب نبی بنایا گیا ؟ آپ نے فرمایا : جب مجھ سے میثاق لیا گیا، اس وقت حضرت آدم روح اور جسد کے درمیان تھے۔

(الطبقات الکبریٰ ج ١ ص 118، دارالکتب العلمیہ، بیروت، 1418 ھ)

عالم ارواح میں نبوت


ماخوذ از کتاب: ۔

تبیان القران از غلام رسول سعیدی