صحابہ کا نماز میں خشوع خضوع نماز کیسے پڑھی جائے؟

یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ صحابہ کا نماز میں خشوع خضوع ، حضوری ،  رقت و سوز اپنے کمال و عروج پر ہوتا تھا۔ حالت نماز میں خشوع خضوع ‏کی وجہ سے  وہ دنیا و ما فیہا سے بے خبراپنے مولا کی یاد میں اس طرح محو و مستغرق ہو جاتے کہ انہیں سوائے رب العزت کے اور کچھ یاد نہ رہتا۔ اگر ان کا چہرہ کعبہ کی طرف ہوتا  تو دل رب کعبہ کی طرف ،ان کی جبین در مولیٰ پر جھکی رہتی، تو  دل نماز میں خشوع خضوع  کی وجہ سے حسن مطلق پر نچھاور ہو رہا ہوتا ۔ آنسوؤں کی جھڑیاں لگ جاتیں ،مصلیٰ تر ہو جاتا ،  ساری ساری رات اسی کیفیت میں بسر ہو جاتی ۔ نماز میں خشوع خضوع‏   پر آگاہی کے لئے یہ واقعات کافی ہیں۔

 

 سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے نماز میں خشوع خضوع ‏  کے  بارے میں منقول ہے۔

کان ابوبکر رضی اللہ تعالی انہ لا یلتفت فی صلاۃ

(حیاۃ الصحابہ – ۳ – ۱۳۲)

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ حالت نماز میں اپنی تمام توجہ نماز میں مرکوز رکھتے

نماز میں خشوع خضوع

     ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جسم اطہر میں ایک ایسا تیر لگا جس کا نکالنا مشکل ہو گیا۔ صحابہ نے باہم طے کیا کہ آپ نماز میں کھڑے ہوں گے تو اس وقت یہ نکال لیا جائے۔ لہذا جب آپ بارگاہ ایزدی میں کھڑے ہوئے تو صحابہ نے وہ تیر نکال لیا۔ اور آپ کو نماز میں خشوع خضوع ‏ کی وجہ سے  محسوس تک بھی نہ ہوا۔ جب نماز سے فارغ ہوئے خون دیکھا تو پوچھا یہ کیسا خون ہے ؟صحابہ نے عرض کیا کہ آپ کا تیر نکال لیا گیا ہے۔

    حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ کی نماز میں کھڑے ہونے کی کیفیت(نماز میں خشوع خضوع ) اس طرح منقول ہے۔

انہ کان یقوم فی الصلوۃ کان عودٰ

نماز میں اس طرح کھڑے ہوتے جیسے زمین میں لکڑی گاڑ دی گئی ہے

(منتخب الکنز – ۴ – ۳۶۵)

امام جلال الدین سیوطی (ت – ۹۱۱) انہی کے نماز میں خشوع خضوع  کے  بارے میں نقل کرتے ہیں-

وقد نسب عبداللہ بن زبیر الی الریاء وانفاق فی صلاتہ فصبوا علی رأسہ مائً جسماً فلخ وجھہ ورأسہ وھو لا یستعر فلما مسلم من صلاتہ فال ماشافی فذکروا لہ القضۃ فقال حسبنا اللہ ونعم الوکیل

حضرت عبد اللہ بن زبیر کے بارے میں کچھ لو گ نماز میں ریا کاری کا تصور رکھتے انہوں نے حالت نماز میں ان پر گرم پانی پھینکا جس سے ان کا چہرہ اور سرجل گیا لیکن انہیں نماز میں خشوع خضوع‏  کی وجہ سے معلوم ہی نہ ہوا۔  جب نماز سے سلام پھیرا تو کہنے لگے یہ مجھے کیا ہوا تو انہوں نے واقعہ بیان کیا تو فرمایا ہمارے لئے اللہ کافی ہے اور وہی بہتر کارساز ہے۔

(نزول الرحمۃ فی النحدث بالنعمۃ، ۴۸)

 

    حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے نماز میں خشوع خضوع ‏ کے بارے میں حضرت واسع بن حبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔

کان ابن عمر یحب ان یستقبل کل شیء من القبلۃ اذا صلیٰ حتی کان یستقبل بھامہ القبلۃ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب نماز ادا کرتے تو وہ چاہتے کہ میری ہر شی قبلہ رخ ہو لہذا (باہتمام) اپنے تمام اعضا کو قبلہ کی طرف متوجہ کر لیتے۔

(طبقات ابن سعد – ۴ – ۱۵۷)

حضرت طاؤس اسی بات کو یوں ذکر کرتے ہیں۔

مارائیتہ مصلیاً کھبۃ عبداللہ بن عمر اشد استقبالاً لکعبۃ بوجہہ و کفیہ و قدمیہ

میں نے تمام اعضاء کو نماز میں قبلہ رخ متوجہ رکھتے ہوئے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا۔ آپ اپنے چہرے ہاتھ اور دونوں قدموں کو قبلہ رخ رکھنے میں بڑے سخت تھے۔

(الحلیۃ ، ۱ = ۳۰۴)

    حضرت اعمش، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کی  نماز میں خشوع خضوع ‏  کی حالت ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔

کان عبداللہ اذا صلیٰ کانہ ثوب ملقی

آپ اتنی تواضع  سے نماز ادا کرتے جیسے گرا ہو کپڑا ہوتا ہے۔

(حیاۃ الصحابہ، ۳ – ۱۳۷)

    حضرت ابن زبیر ؓ نماز ادا کر رہے تھے ان کا بیٹا ہاشم پاس سو رہا تھا۔ چھت سے سانپ گر کر بچے کے جسم پر لپٹ گیا اس پر بچہ چلایا ،گھر والے سب دوڑتے ہوئے آئے۔ شور برپا ہو گیا۔ ابن زبیر ؓ  نماز میں خشوع خضوع‏  کی وجہ سےاسی اطمینان کے ساتھ نماز ادا کرتے رہے ۔ سلام پھیر کر فرمانے لگے کچھ شور کی سی آواز تھی؟ کیا ہو اتھا؟ بیوی نے کہا بچے کی جان جانے لگی تھی۔ آپ کو علم ہی نہیں،فرمانے لگے اگر نماز میں دوسری طرف توجہ کرتا تو نماز کہاں باقی رہتی-

ان تمام واقعات سے صحابہ کا نماز میں خشوع خضوع ‏  کی وجہ سے  حد درجہ استغراق وانہماک ظاہر ہوتا ہے۔

لیکن دنیائے آب و گل میں ایک نظارہ صحابہ کے لئے ایسا بھی تھا۔ کہ جس کی لذت و حلاوت میں وہ نماز جیسی چیز کو بھول جاتے تھے۔

 


  ماخوذ از کتاب:  مشتاقان جمال نبوی کی کیفیات جذب و  مستی

مصنف :   بدر المصنفین شیخ الحدیث محقق العصر حضرت مولانا مفتی محمد خان قادری(بانی ، جامعہ اسلامیہ لاہور)۔

Please follow and like us:

Enjoy this ? Please spread the word :)