صالحین (اولیاء اللہ)کا مقام ومرتبہ ،اسلام اور صوفیت

    اللہ تعالیٰ کے سلام اور برکات نازل ہوں ان صالحین (اولیاء اللہ)  کے دلوں پر جنہوں نے عرفان ا لہی کے انوار سے نور حاصل کیا ،پس وہ صالحین (اولیاء اللہ) ان ستاروں کی مانند ہوگئے جو منان ذوالجلال کی توفیق سے جگمگا رہے ہیں ۔ وہ صالحین (اولیاء اللہ)قلوب دنیا اور دنیا کی شہوات سے الگ تھلگ ہو کر رحیم و رحمٰن ذات کے قرب کے مشتاق ہوئے ، صالحین (اولیاء اللہ)اس کے اذکار کے ساتھ شیفتہ ہو گئے۔

    اور صالحین (اولیاء اللہ) اس کی طرف اور اس کی رحمت کے جوار کی طرف مشتاق ہوئے ،اور ان دلوں نے تقوٰی و خشیت الہی کو مضبوطی کے ساتھ تھام لیا ،اور اللہ تعالیٰ کے انوار کو اپنی آنکھوں کا سرمہ بنا لیا، تو وہ انوار الہیہ کے لیے ایقان کے بعد سراپا ایقان اور ایمان کے ساتھ سراپا ایمان ہو گئے اور صالحین (اولیاء اللہ) مسلسل جنت والی رہائش گاہوں کی طرف بڑھتے جارہے ہیں ۔

    اے میرے بھائی ! اگر تو ان صالحین (اولیاء اللہ)کو دیکھ لے تو ضرور تُو ان کو  ایسی قوم کو پائے گاجن کی روحیں شوق کے ساتھ اللہ عزجل کی طرف اڑ رہی ہیں ۔ اور ان کے بدن اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار یوں کے ساتھ آباد ہیں اور ان کی جانیں اللہ عزیز کے فیصلوں پر صابر وشاکر ہیں ۔

صالحین (اولیاء اللہ)

صالحین (اولیاء اللہ)کا مقام ومرتبہ ،اسلام اور صوفیت

جب لوگ روزے دار نہ ہوں وہ صالحین (اولیاء اللہ)روزے دار ہوتے ہیں۔ اور صالحین (اولیاء اللہ)  محتاجی کے ڈر سے سخت تاریک راتوں میں (اللہ تعالیٰ کے ساتھ) معاملات کی تجارت کی طرف کھڑے ہوتے ہیں (قیام کرتے ہیں ) ۔جب لوگ خوشیاں منا رہے ہوں اس وقت وہ صالحین (اولیاء اللہ)غمزدہ ہوتے ہیں ،جب بیکار اور وسوسوں والے لوگ ہنستے ہیں اس وقت وہ رو رہے ہوتے ہیں، ان کے دل اپنے مولیٰ کی وہ عظمت دیکھتے ہیں جو ظاہری آنکھوں پر مخفی ہوتی ہے، اور ان صالحین (اولیاء اللہ)کے باطن اعلیٰ قسم کے کاجل کے ساتھ خوبصورتی کے ساتھ مزین ہوتے ہیں پس صالحین (اولیاء اللہ)سطح زمین (یابیداری والی زمین )کی طرف مستعدی کی راہ پر ہوتے ہیں ۔

قیامت کا دن نہایت ہولناک ہے :۔

    خوب جان لو ! اے میرے بھائی بلا شبہ ہمارے اور تمہارے آگے ایک ایسا دن ہے جس میں بچے بوڑھے ہو جائیں گے اور ہر حمل والی اپنا حمل گرا دے گی اور تو دیکھے گا لوگوں کو جیسے نشے میں ہیں اور وہ نشہ میں نہ ہونگے مگر یہ ہے کہ اللہ کی مار کڑی ہے۔

    اس دن میں سب چھپی ہوئی چیزیں کھل جائیں گی اور اللہ تعالی اپنے بندے سے اس کی زندگی کے بارے میں پوچھے گا کہ اس کو کہاں صرف کیا ؟۔ اس کی جوانی کے بارے میں پوچھے گا اس کو کہاں صرف کیا ؟اس کے مال کے بارے پوچھے گا کہ کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا ؟۔ اور اہل وعید کے لےے جہنم کی آگ بھڑکائی جائی گی ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

یَوْمَ نَقُوْلُ لِجَہَنَّمَ ہَلِ امْتَلَئْتِ وَتَقُوْلُ ہَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ وَاُزْلِفَتِ الْجَنَّۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ ہٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِکُلِّ اَوَّابٍ حَفِیْظٍ مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ وَجَآءَ بِقَلْبٍ مُّنِیْبِ نِ ادْخُلُوْہَابِسَلٰمٍ ذٰلِکَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ لَہُمْ مَّا یَشَآءُ وْنَ فِیْہَا وَلَدَیْنَا مَزِیْدٌ

(سورہ  ق: ٣٠تا٣٥ )

اور قریب کر دی جائے گی جنت پرہیز گاروں کے کہ ان سے دور نہ ہوگی، یہ ہے وہ جس کا تم وعدہ دئیے جاتے ہوہر رجوع لانے والے نگہداشت والے کے لیے ، جو رحمٰن سے بے دیکھے ڈرتا ہے اور رجوع کرتا ہوا دل لایا ان سے فرمایا جائے گا جنت میں جاؤ سلامتی کے ساتھ یہ ہمیشگی کا دن ہے ، ان کے لئے ہے اس میں جو چاہیں ہمارے پاس اس سے بھی زیادہ ہے۔

     خدا کی قسم یہ وہ دن ہے جس میں اچھے عمل کرنے والے صالحین (اولیاء اللہ)خوش ہونگے اور باطل عمل کرنے والے ناکام اور رسوا ہو ں گے ۔ اور ہر نفس کو اس کی کمائی پوری پوری دی جائے گی اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

قیامت کی ہولناکی سے نجات کیسے حاصل ہو گی ؟

    اے میرے بھائی! اگر تو اس دن کی ہولناکی سے نجات چاہتا ہے تو اس کے تقوٰ ی کو تیار کر، اور اپنے اعضاء کی ان تمام کاموں سے حفاظت کر جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا،اور ان تمام حقوق کو بجا لا جن کا تجھے اللہ نے حکم دیاجو فقہ کی کتابوں میں موجود ہیں،جن کا تعلق حلال و حرام اور حدود و احکام سے ہے ۔ ان سب چیزوں کے لیے اپنے آپ کو اس طریقہ پر تیار کرکہ تجھ پر شریعت کا کوئی مطالبہ باقی نہ رہے اور کوئی فوت شدہ نماز تیرے ذمہ میں باقی نہ رہے ، نہ فوت شد ہ روزہ اور نہ فرض زکوۃ اور نہ ناحق کسی مسلمان کی غیبت ، نہ جھگڑا ، نہ عداوت ، نہ نا حق بغض تیرے ذمے میں باقی رہے ۔اور اس طریقہ پر عمل کر کہ تو اپنے درمیان اور اللہ تعالی کے درمیان ہر قسم کے حق سے اور اپنے درمیان اور بندوں کے درمیان ہر قسم کے حق سے اپنے دامن کو صاف کر لے ۔جب تو ایسا کرے گا تو انشاء اللہ تعالیٰ صالحین (اولیاء اللہ) کی جماعت میں شامل ہو جائے گا۔

  

ماخوز از کتاب:۔

 عربی نام:   مفتاح طریق الاولیاء

مؤلف:امام احمد بن ابراہیم الواسطی الحنبلی (ت:٧١١ھ)

            اردو نام:    آیئے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کریں

                 مترجم: علامہ مفتی محمد اللہ بخش تونسوی

1 thought on “صالحین (اولیاء اللہ)کا مقام ومرتبہ ،اسلام اور صوفیت”

  1. Pingback: محبت رسولﷺ کیسے حاصل ہو گی ؟ > ISLAMIC MEDIA