رشتہ داروں پر مال خرچ کرنا کیسا؟

رشتہ داروں پر مال خرچ کرنے کی فضیلت

وَ اٰتَی الۡمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الۡقُرۡبٰی

.اور مال سے اپنی محبت کے باوجود خرچ کرے ‘

 اس کا معنی یہ ہے کہ انسان تندرست ہو ‘ اس کو پیسوں کی ضرورت بھی ہو ‘ تاکہ وہ اپنے مستقبل کے لمبے لمبے منصوبوں کو پورا کرے اور اسے فقر کا خدشہ بھی لاحق ہو ‘ پھر بھی وہ اللہ کی راہ میں ‘ رشتہ داروں ‘ یتیموں ‘ مسکینوں ‘ مسافروں اور سائلین وغیرہ پر خرچ کرے۔

: امام ترمذی روایت کرتے ہیں 
حضرت فاطمہ بنت قیس (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زکوٰۃ کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا  مال میں زکوٰۃ کے علاوہ بھی حق ہے ‘

 (جامع ترمذی ص ١١٩‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

حضرت ام کلثوم بنت عقبہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سب سے افضل صدقہ ‘ پہلوتہی کرنے والے مخالف رشتہ داروں پر صدقہ کرنا ہے۔

(سنن کبری ج ٧ ص ٢٧٠‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١١ ھ)

رشتہ دار

حافظ الہیثمی نے لکھا ہے : اس حدیث کو امام طبرانی نے ” معجم کبیر “ میں روایت کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔

(مجمع الزوائد ج ٣ ص ١١٦‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)

زکوٰۃ ‘ قربانی ‘ عشر اور صدقہ فطر صدقات واجبہ ہیں ‘ باقی صدقات نفل اور مستحب ہیں۔ صدقات واجبہ ماں ماپ ‘ اولاد اور شوہر یا بیوی کے علاوہ ان رشتہ داروں کو دیئے جائیں گے جو غیر سادات اور فقراء ہوں ‘ اور صدقات نفلیہ دینے کے لیے کوئی شرط نہیں ہے ‘ وہ تمام رشتہ دار وں کو دیئے جاسکتے ہیں۔ امام طبرانی روایت کرتے ہیں  
حضرت ابوامامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رشتہ داروں پر صدقہ کرنے کا دو مرتبہ دگنا اجر دیا جاتا ہے۔

(المعجم الکبیر ج ٨ ص ‘ ٦٠٧ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت)

 

Please follow and like us:

Enjoy this ? Please spread the word :)