حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا مقام

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ‏صحابہ کرام

اس کائنات میں حضرات انبیاء علیہم السلام کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا مقام ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو تمام دیگر انبیاء کے ساتھیوں پر فضیلت حاصل ہے۔ اللہ و رسول سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جو تعلق حاصل ہے،  وہ انہیں کا حصہ ہے،  بلاواسطہ ، فیض نگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے انہیں کے سینے نور علی نور ہوئے۔ اللہ تعالی کے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ اقدس اور شخصیت مبارکہ کو صبح و شام دیکھنا اور تکنا فقط حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نصیب ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت میں بیٹھنا’ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شیریں و حسین گفتگو سے محظوظ ہونا’ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حضرت جبریل علیہ السلام کو آتے جاتے’ نزول قرآن اور کیفیات وحی کو دیکھنے کا شرف صرف حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پایا ہے۔ زمین و آسمان نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ و رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وفادار اور سچے اور مخلص انسان نہیں دیکھے’ وہ راتوں کو بارگاہ ایزدی میں مصلوں کی پشتوں پر اور دن کو ظلم کے خلاف گھوڑوں کی پشتوں پر دکھائی دیتے’ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے سینے اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت سے آباد تھے۔ اور ان کے دل و دماغ اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری سے سرشاریوں سے معمور وشاداب تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی یہ کیفیت تھی

 

انہیں جانا انہیں مانا نہ رکھا غیر سے کام

للہ الحمد میں دنیا سے مسلمان گیا

 

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ‏صحابہ کرام

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ظاہر پر اگر شریعت کا پہرہ تھا۔ تو ان کے باطن پر خشیت و محبت الہی کی حکمرانی تھی۔ وہ اپنے اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جس طرح مسجد میں مانتے تھے بازار میں بھی اسی طرح ان کے آگے دل و دماغ کو جھکائے رکھتے تھے’ وہ صرف مسجد میں ہی نماز ادا نہیں کرتے تھے بلکہ چوبیس گھنٹے نمازی رہتے تھے’ ان کا تن ہی نمازی نہ تھا بلکہ ان کا من’ تن سے بڑھ کر نمازی تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہی کے بارے میں قرآن نے کہا :

رجال لا تلھیھم تجارۃ ولا بیع عن ذکر اللہ و اقام الصلوۃ

(النور -۳۷)

کچھ ایسے مرد ہیں جنہیں کوئی تجارت اور بیع’ اللہ تعالی کی یاد اور اس کی بارگاہ میں بصورت نماز حاضری سے مشغول نہیں کر سکتی-

یعنی ان کا ہاتھ کام کی طرف ہو سکتا ہے ،لیکن دل اپنے یار اور محبوب حقیقی کی یاد میں مگن رہتا ہے۔ وہ اگر نماز و روزہ اپنے مولیٰ کی خوشنودی کے لئے ادا کرتے ہیں تو ان کی تجارت’ کاروبار’ خدمت خلق اور زندگی کا ہر عمل بھی اللہ و رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاطر ہی ہوا کرتا تھا۔

ان صلٰوتی و نسکی و محیای و مماتی للہ رب العالمین

(الانعام – ۱۶۲)

بلا شبہ میری نماز’ میری قربانی ‘ میری زندگی اور میری موت اللہ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے

موت کے وقت بھی ان کی یہی تمنا ہوتی کہ کاش ہمارا سراللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں پر ہو۔ دشمن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو پھانسی لٹکاتے وقت ان کی آخری خواہش پوچھتے تو وہ کہتے ہمیں اپنے پروردگار کی بارگاہ میں سجدہ کی اجازت دے دو۔ غزوہ میں شہید ہوتے وقت پوچھتے “ہمارے کریم آقا کہاں ہیں؟” اگر کوئی بتا دیتا بالکل قریب ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنے آپ کو گھسیٹ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں تک پہنچ جاتے اور قدموں پر سر رکھ کر کہتے ۔

فزت برب الکعبۃ

”رب کعبہ کی قسم اب کامیابی نصیب ہوئی”

دل ہے وہ دل جو تیری یاد سے معمور رہا

سر ہے وہ سر جو تیرے قدموں پہ قربان گیا

    چشم فلک نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جیسا جانثار’ حضرت بلال رضی اللہ عنہ جیسا عاشق’ حضرت خباب رضی اللہ عنہ جیسا وفادار’ حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ جیسا دیوانہ’ حضرت علی رضی اللہ عنہ جیسا موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بستر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر لیٹنے والا اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ جیسا محب کبھی نہیں دیکھا نہ ان سے پہلے نہ ان کے بعد۔ نگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیض سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو علم و عمل میں وہ مقام نصیب ہوا۔ کوئی انسان زندگی کے کسی بھی شعبہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی کی بھی اقتدا کرے،  کامیابی اس کے قدم چومے گی۔ خود ان کے مربی ؐ کا فرمان ہے۔

اصحابی کا لنجوم یایھم اقتدیتم اھتدیتم

میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں تم جس کی بھی اقتدا کر لو منزل پا لو گے

بلکہ ہم سب کے خالق جل و علاشانہ کا مقدس فرمان ہے۔

فان امنو بمثل ما امنتم بہ فقد اھتدوا

 (البقرہ- ۱۳۷)

اگر لوگ اس طرح ایمان لے آئیں جس طرح صحابہ لائیں ہیں تو لوگ منزل کو پالیں۔

آج کا دور بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جیسے ہی محب و دیوانے کی تلاش میں ہے ۔ بقول علامہ اقبال مرحوم۔

یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے

صنم کدہ ہے جہاں لا الہ الا اللہ

 

 


  ماخوذ از کتاب:  مشتاقان جمال نبوی کی کیفیات جذب و  مستی

مصنف :   بدر المصنفین شیخ الحدیث محقق العصر حضرت مولانا مفتی محمد خان قادری  (بانی ، جامعہ اسلامیہ لاہور)۔

2 thoughts on “حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا مقام”

  1. Pingback: حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے وصال کا سبب > ISLAMIC MEDIA

  2. Pingback: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے تمام غم بھول جاتے > ISLAMIC MEDIA