تفسیر ابن عباس (تنویر المقیاس من تفسیر ابن عباس

تفسیر ابن عباس (تنویر المقیاس من تفسیر ابن عباس)۔

تعارف کتاب و امتیازی خصوصیات :۔

تفسیر کے مصنف ابو الطاہر محمد بن یعقوب بن محمد بن بن ابراہیم نجد الدین الشیرازی الشافعی ہیں۔ اور یہ تفسیر تفسیر قرآن سے متعلق حضرت ابن عباس (رض) کی روایات کا مجموعہ ہے ۔

عربی “تفسیر ابن عباس (تنویر المقیاس من تفسیر ابن عباس)”۔

اس تفسیر ” تنویر المقیاس ” کے حوالے سے حقیقت یہ ہے کہ اس کی متعدد روایات صحاح ستہ و دیگر کتب حدیث مثلا : مسند احمد بن حنبل، مسند ابی داود الطیالسی، مسند الشافعی، مسند الحمیدی، معجم طبرانی، المنتقی لابن جارود، سنن دارمی، سنن الدارقطنی میں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ صحابہ کے اقوال و آثار بھی ہیں۔ لغتِ عرب، تاریخ عرب، ایام العرب سے استشہاد و استناد بھی ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) کی روایات سے مزین ہیں۔“تفسیر ابن عباس (تنویر المقیاس من تفسیر ابن عباس)”۔

 ان تمام شواہد اور قرائن کی موجودگی میں اس مجموعہ روایات ابن عباس سے بےاعتنائی، قرینِ انصاف نہیں۔ پھر یہ تفسیر ایک طویل عرصے سے ہزاروں کی تعداد میں دنیا کے مختلف حصوں میں زیور طبع سے آراستہ ہورہی ہے اور اہل علم اس سے استفادہ بھی کرتے رہے ہیں۔“تفسیر ابن عباس (تنویر المقیاس من تفسیر ابن عباس)”۔

اس تفسیر کا ایک قلمی نسخہ پنجاب پبلک لائبریری لاہور میں موجود ہے۔ یہ تفسیر 1314 ھ کو امام سیوطی کی تفسیر در منثور کے حواشی پر مصر سے شائع ہوئی اور مستقل طور پر 1316 ھ کو مصر سے چھپی اور برصغیر میں کئی مرتبہ شائع ہوئی، 1285 ھ کو شاہ ولی اللہ کے ترجمہ قرآن کے ساتھ اور پھر شاہ رفیع الدین کے اردو ترجمہ کے حاشیہ پر بھی شائع ہوئی ۔ اردو ترجمہ پہلی بار 1926 ء میں آگرہ سے شائع ہوا۔“تفسیر ابن عباس (تنویر المقیاس من تفسیر ابن عباس)”۔

تفسیر ابن عباس (تنویر المقیاس من تفسیر ابن عباس

تعارف مفسر “تفسیر ابن عباس (تنویر المقیاس من تفسیر ابن عباس)”:۔

نام و نسب :۔

آپ کا نام عبداللہ تھا،    ابوالعباس کنیت  تھی۔ آپ کے والد کا نام حضرت عباس (رض) اور والدہ کا نام ام‏الفضل لبابہ (رض) عنہا تھا۔ آپ کا شجرہِ نسب یہ ہے۔“تفسیر ابن عباس (تنویر المقیاس من تفسیر ابن عباس)”۔

عبداللہ بن العباس بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف۔

آپ کے والد حضرت عباس (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سگے چچا تھے۔ اس طرح آپ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ابن عم تھے۔ آپ (رض) ام المومنین حضرت میمونہ (رض) کے خواہرزادہ تھے کیونکہ آپ (رض) کی والدہ ام الفضل (رض) اور حضرت میمونہ (رض) حقیقی بہنیں تھیں۔“تفسیر ابن عباس (تنویر المقیاس من تفسیر ابن عباس)”۔

پیدائش :۔

حضرت عبداللہ ابن عباس کی پیدائش ہجرت سے 3 برس قبل شعب ابی طالب میں محصوریت کے دوران ہوئی تھی۔ آپ کی پیدائش کے بعد حضرت عباس (رض) آپ کے بارگاہِ رسالت میں لے کر آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انکے منہ میں اپنا لعاب دہن ڈال کر آپ کے حق میں دعا فرمائی۔“تفسیر ابن عباس (تنویر المقیاس من تفسیر ابن عباس)”۔

قبولِ اسلام:۔

آپ کے والد محترم حضرت عباس (رض) نے اگرچہ فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کیا، لیکن آپ کی والدہ حضرت ام الفضل (رض) نے ابتدا میں ہی داعی توحید کو لبیک کہا تھا۔ اس لئے آپ کی پرورش توحید کے سائے میں ہوئی۔“تفسیر ابن عباس (تنویر المقیاس من تفسیر ابن عباس)”۔

ہجرت :۔

حضرت عباس (رض) 8 ہجری میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ ہجرت کر کے مدینہ منورہ پہنچے۔ اس وقت آپ کی عمر تقریباً 11 سال تھی۔ آپ اپنے والد کے حکم سے بیشتر اوقات بارگاہِ نبوت میں حاضر ہوتے تھے۔“تفسیر ابن عباس (تنویر المقیاس من تفسیر ابن عباس)”۔

عہد طفویلیت میں مصاحبتِ رسول :۔

آپ کی مصاحبت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جو زمانہ پایا، دراصل وہ آپ کے لڑکپن کا زمانہ تھا۔ تاہم آپ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحبت میں اکثر رہتے۔ ام المومینین حضرت میمونہ (رض) آپ کی خالہ تھی اور آپ سے بہت شفقت رکھتیں تھیں اس لیے آپ اکثر انے خدمت میں حاضر رہتے تھے اور کئی دفع رات میں انکے گھر پر ہی سو جاتے تھے۔ اس طرح انکو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحبت سے مستفیض ہونے کا بہترین موقع میسر تھا۔ آپ ایسے ہی ایک رات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔“تفسیر ابن عباس (تنویر المقیاس من تفسیر ابن عباس)”۔

“ایک مرتبہ میں اپنی خالہ کے پاس سو رہا تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور چار رکعت پڑھ کر استراحت فرما ہوئے، پھر کچھ رات باقی تھی کے آپ بیدار ہوئے اور مشکیزہ کے پانی سے وضو کر کے نماز پڑھنے لگے میں بھی اٹھ کر بائیں طرف کھڑا ہوگیا۔ آپ نے میرا سر پکڑ کر مجھے داہنی طوف کھڑا کرلیا۔       “۔“تفسیر ابن عباس (تنویر المقیاس من تفسیر ابن عباس)”۔

آپ کے حق میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا :۔

اسی طرح ایک بار رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کے لئے بیدار ہوئے تو آپ (رض) نے وضو کے لئے پنی لا کر رکھ دیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو سے فراخت کے بعد پوچھا کے پانی کون لایا تھا۔ حضرت میمونہ (رض) نے حضرت عبداللہ بن عباس کا نام لیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خوش ہو کر یہ دعا دی۔“تفسیر ابن عباس (تنویر المقیاس من تفسیر ابن عباس)”۔

“اللهم فقهه في الدين وعلمه التأويل‎ “

یعنی اے اللہ اس کو مذہب کا فقیہ بنا اور تاویل کا طریقہ سکھا ۔

وفات :۔

 آپ (رض) کی وفات : 68 ہجری بمطابق 687 ء میں ہوئی۔

تعارف مؤلف:۔

  1. اس تفسیری مجموعہ کے مؤلف و مرتب کا مکمل نام ابو الطاہر محمد بن یعقوب بن محمد بن ابراہیم نجد الدین بن الشیرازی الشافعی ہے۔

پیدائش :۔

آپ شیراز شہر کے قریب ایک گاؤں ” کا زشرون ” میں 749 ہجری بمطابق 1339 ء کو پیدا ہوئے۔“تفسیر ابن عباس (تنویر المقیاس من تفسیر ابن عباس)”۔

ابتدائی تعلیم :۔

آپ کی تعلیم کا علاقہ اور اساتذہ کا دائرہ خاصا وسیع ہے۔ ابتداء شیراز ہی سے تعلیم حاصل بعد ازیں بغداد کا رخ کیا جو اس وقت علم و فن کا مرکز تھا۔ ازاں بعد امام ابن قیم اور امام السبکی کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا۔ پھر بیت المقدس تشریف لے گئے اور تقریبا دس سال تک تعلیم و تعلم کا یہ سلسلہ بیت المقدس میں قریباً دس سال تک چلتا رہا۔ اس کے علاوہ آپ نے حرمین شریفین، ترکی، قاہری اور ہندوستان کے شیوخ و اکابر سے بھی علم حاصل کیا۔“تفسیر ابن عباس (تنویر المقیاس من تفسیر ابن عباس)”۔

مقام ومرتبہ :۔

 آپ اپنے وقت کے جلیل القدر، مفسر، محدث، ماہر لغت اور اعلی پائے کے ادیب تھے۔ شخصی اعتبار سے بڑے غیرت مند، خود دار اور متقی تھے۔ زندگی کا انداز سادہ و پروقار تھا۔“تفسیر ابن عباس (تنویر المقیاس من تفسیر ابن عباس)”۔

آپ کی تصانیف درج ذیل ہیں :۔

 

تنویر المقب اس من تفسیر ابن عباس

بصائر ذوالتمیز فی لطائف الکتاب العزیز

یہ آپ نے قرآن مجید کی چھ جلدوں پر مشتمل تفسیر لکھی۔ یہ تفسیر قاہرہ و بیرت سے بار ہا چھپ چکی ہے۔

علامہ زمخشری کی کشاف کے خطبہ کی ایک مستقل شرح لکھی۔

سیرت النبی پر مختصر کتاب سفر السعادۃ یا الصراط المستقیم کے نام سے لکھی۔

بخاری شریف کی ایک شرح بھی لکھی۔“تفسیر ابن عباس (تنویر المقیاس من تفسیر ابن عباس)”۔

القاموس

آپ کی اہم اور مشہور ترین تالیف، القاموس، ہے۔ یہ جامع ترین عربی لغات میں شمار ہوتی ہے۔

البلغہ فی تاریخ ائمۃ اللغۃ۔

کتاب تحبیر الموشین۔“تفسیر ابن عباس (تنویر المقیاس من تفسیر ابن عباس)”۔

Please follow and like us:

Enjoy this ? Please spread the word :)