بچپن میں شرمگاہ کی حفاظت ازحد ضروری ہے

شرمگاہ کي ‏حفاظت

جس شخص کو بچپن میں اللہ عزوجل اس کی شرمگاہ کی حفاظت کی توفیق دے تو اس کا دل مجتمع ہو جاتا ہے، اس کی جمعیت متوفر ہو جاتی ہے، اس کا باطن علم وحکمت اور حال کے لیے عظیم برتن بن جاتا ہے (شرمگاہ کی حفاظت کرنے کی وجہ سے) ۔ اور جو شخص بچپن میں اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے گا اللہ عزوجل اس کو اس کی استطاعت کے مطابق ادھیڑ عمر میں حکمت اور بڑھاپے کی عمرمیں (شرمگاہ کی حفاظت کرنے کی وجہ سے)  امانت عطا فرمائے گا اور اللہ عزوجل اس کو حیاء ،چہرے کی رونق ،سکون اور وقار عطا فرمائے گا۔ اور اہل ایمان کے دلوں میں  (شرمگاہ کی حفاظت کرنے کی وجہ سے) اس کی محبت پیدا فرما دے گا ۔

لیکن جو شخص بچپن میں اپنی شرمگاہ کی حفاظت نہیں کرے گا اس کی فطرت سلیمہ تبدیل ہو جائے گی اور اس کا دل سخت ہو جائے گا ،الٹا ہو جائے گا اور اوندھا ہو جائے گا اور اس کادل مقلوب ہو جائے گا۔ اور یہ چیز  (شرمگاہ کی حفاظت نہ کرنا) اس کے دل کے سخت اور اس کے باطن کے خبیث ہونے کی وجہ سے اس کی پیشانی پر ظاہر ہو جائے گی ۔ اور اس کی وجہ سے اسکی جمیعت متفرق ہو جائے گی ۔ پس (شرمگاہ کی حفاظت نہ کرنے کی وجہ سے)  وہ علم سے مانوس ہوگا نہ حکمت سے ،اور نہ اولیاء سے محبت کرے گا نہ صالحین سے ،اور اس کا دل شیاطین کی آماجگاہ بن جائے گا ۔اور اس کی مثال اس مردار کی طرح ہو جائے گی جسے کوڑا کرکٹ کے ڈھیر پر پھینکا گیا ہوجس کے اعضاء ، آنکھوں ، اور نتھنوں میں کیڑے مکوڑے داخل ہو جائیں۔

شرمگاہ کي ‏حفاظت

بچپن میں شرمگاہ کی حفاظت ازحد ضروری ہے

اچھے دل والے  ( شرمگاہ کی حفاظت کرنے والے ) کی مثال :۔

    اور اچھے دل والے  (شرمگاہ کی حفاظت کرنے والے) کی مثال اس پرندے کی طرح ہے جو آسمان کی فضاء میں اڑ رہا ہو ، اس شکار کرنے کا ارادہ رکھنے والا اس تک نہیں پہنچ سکے گا ۔ اور کتنا ہی اچھا حال ہے اس شخص کا (شرمگاہ کی حفاظت کرنے کی وجہ سے)  جو لوگوں سے محفوظ رہا اور لوگ اس سے محفوظ رہے ۔ بلا شبہ وہ تو بہت بڑی کامیابی کے ساتھ کامیاب ہوا، اور اس جیسا شخص ہی اللہ عزوجل کی ولایت کے حصول کے لیے تربیت حاصل کرنے کا اہل ہوتا ہے ۔

کیونکہ جو شخص شرمگاہ کی حفاظت میں کوتاہی کرے گا قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو اپنا دوست اور ولی نہ بنائے ،کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کی امانت (شرمگاہ کی حفاظت ) کو ضائع کر دیا، نیز اس نے اللہ تعالیٰ کی امانت میں خیانت کی ،تو ایسا شخص اسرار پر امین ہونے کا اہل نہیں ہے، الا یہ کہ اس سے مکمل طور پر امانت کو چھین لیا جائے ۔ پس ان شاء اللہ رجوع لانے والے اور توبہ کرنے والے کے لیے ہر چیز کی امید رکھی جاسکتی ہے ۔ اور ایک حدیث میں یہ آیا ہے کہ” اللہ عزوجل نے جب اپنے دست قدرت سے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا اور ان کی شرمگاہ کو پیدا فرمایا تو ارشاد فرمایا:۔

    ”اے آدم ! یہ تمہارے پاس میری ودیت اور امانت ہے ”

    اللہ عزوجل کا فرمان ہے :۔

وَالَّذِیْنَ ہُمْ لِفُرُوْجِہِمْ حٰفِظُوْنَ اِلَّا عَلٰۤی اَزْوَاجِہِمْ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُہُمْ فَاِنَّہُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَ فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَآءَ ذٰلِکَ فَاُولٰۤئِکَ ہُمُ الْعٰدُوْنَ (سورۃ المؤمنون :٥      تا    ٧)۔

” اور وہ لوگ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں مگر اپنی بیویوں یا شرعی بانیوں پر جو ان کے ہاتھ کی ملک ہے کہ ان پر کوئی ملامت نہیں ، تو جو ان دو کے سوا کچھ اور چاہے وہی حد سے بڑھنے والے ہیں۔

اہل تقویٰ اور اہل خشیت کا درجہ کیسے حاصل ہو گا ؟

    اے میرے بھائی ! اگر تم اہلِ تقوٰی اور اہلِ خشیت کے درجہ کو حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہو تو خلوتوں میں (شرمگاہ کی حفاظت کرکے ) اللہ تعالیٰ سے حیا اپنے اوپر لازم کر لو۔ اور خوب جان لو کہ بلا شک وشبہ وہ تمہیں عرش کے اوپر سے، آسمانوں کے اوپر سے دیکھ رہا ہے، اور بلاشبہ اس چیز کو بھی دیکھ رہا ہے جس کے ساتھ تمہارے اعضاء حرکت کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :۔

یَسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ وَلاَ یَسْتَخْفُوْنَ مِنَ اللّٰہِ وَہُوَ مَعَہُمْ اِذْ یُبَیِّتُوْنَ مَا لاَ یَرْضٰی مِنَ الْقَوْلِ وَکَانَ اللّٰہُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطًا

(سورۃ النساء : ١٠٨)

وہ آدمیوں سے چھپتے ہیں اور اللہ سے نہیں چھپتے اور اللہ ان کے پاس ہے جب دل میں وہ بات تجویز کرتے ہیں جو اللہ کو ناپسند ہے اور اللہ ان کے کاموں کو گھیرے ہوئے ہے ۔

    اور اسی طرح وہ ان تمام وسوسوں کو جانتا ہے جو تمہارا نفس تمہارے دل میں ڈالتا رہتا ہے ۔ اور جو چیزیں تمہارے سینے میں گردش کرتی ہیں وہ اسے بھی خوب جانتا ہے ۔ اللہ عزوجل کا فرمان ہے :۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّہُمْ بِالْغَیْبِ لَہُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّاَجْرٌ کَبِیْرٌ وَاَسِرُّوْا قَوْلَکُمْ اَوِ اجْہَرُوْا بِہٖ اِنَّہ، عَلِیْمٌمبِذَاتِ الصُّدُوْرِ اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ

(سورۃ الملک : ١٢ تا ١٤)

بے شک وہ جو بے دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں (شرمگاہ کی حفاظت کرتے ہیں)  ان کے لئے بخشش اور بڑا ثواب ہے ، اور تم اپنی آہستہ کہو یا آواز سے وہ تو دلوں کی جانتا ہے، کیا وہ نہ جانے جس نے پیدا کیا اور وہی ہے ہر باریکی جانتا خبردار۔

    تو اے میرے بھائی! اپنے نفس کو اللہ عزوجل سے حیا کرنے (شرمگاہ کی حفاظت کرنے ) کا عادی بنا خواہ دن کی ایک گھڑی کے لیے ہو ۔ پھر تو اپنی مصروفیات میں اور اپنے کاموں میں لگ جا ۔پھر دوبارہ (اگلے دن اسی طرح) اس گھڑی کی حفاظت کر اور اس معاملہ کو اپنے درمیان اور اپنے مولا کے درمیان پوشیدہ رکھ ،کسی کو یہ مت بتا کہ تو کس طرح یہ عمل (شرمگاہ کی حفاظت ) کر رہا ہے ،ورنہ تمہارے دل سے نورِ مراقبہ کے بجھ جانے کا خدشہ ہے ۔ اور تم مسلسل اسی طرح لحظہ بلحظہ اپنی عادت بنائے رہو ،حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ سے حیا تمہاری فطرت بن جائے ۔ یہ چیز کہ اللہ عزوجل تمھیں دیکھ رہاہے تمہارے دل سے ہرگز جدا نہ ہو ۔ (اگر ایسا وظیفہ کرو گے) تو اس سے تمہارے دل کو قرار ملے گا اورتمہارے دل میں اللہ تعالیٰ کی خشیت ، ہیبت ، حیا اور تعظیم رچ بس جائے گی ۔ پھر اگر تم ایک زمانہ اپنے قیام وقعود، مصروفیات ، شیخ کے سامنے بحث و مباحثہ اور اپنے کھانے پینے میں اس  (شرمگاہ کی حفاظت کرنے کے)عمل پر ڈٹے رہے تو مجھے امید ہے کہ تم اس کی برکت سے ان عارفین کے درجے تک پہنچ جاؤ گے جو اللہ تعالیٰ سے لین دین کرنے والے اور باطن میں اللہ کا ڈر رکھنے والے ہیں ۔ تمہیں مبارکباد، پھر تمہیں مبارک باد! اگر تم اس درجے تک پہنچ گئے ساتھ تم نے علم حدیث و علم فقہ کو بھی تم نے حاصل کر لیا تو تمہارے لےے علم ، عمل اور معرفت سب جمع ہو جائیں گی۔

    اور ان شاء اللہ تعالیٰ  (شرمگاہ کی حفاظت کرنے کی وجہ سے) تم ایسے امام بن جاؤ گے کہ تمہاری اقتداء کی جائے گی ۔ 

ماخوز از کتاب:۔

 عربی نام:   مفتاح طریق الاولیاء

مؤلف:امام احمد بن ابراہیم الواسطی الحنبلی (ت:٧١١ھ)۔

            اردو نام:    آیئے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کریں

                 مترجم: علامہ مفتی محمد اللہ بخش تونسوی

1 thought on “بچپن میں شرمگاہ کی حفاظت ازحد ضروری ہے”

  1. Pingback: صالحین (اولیاء اللہ)کا مقام ومرتبہ ،اسلام اور صوفیت > ISLAMIC MEDIA