الجامع الاحکام القرآن معروف بہ تفسیر قرطبی

الجامع الاحکام القرآن معروف بہ تفسیر قرطبی کا تعارف:۔

تفسیر قرطبی      ( نام :۔               الجامع الاحکام القرآن معروف بہ تفسیر قرطبی )۔

مفسر :۔                 ابوعبدالله، محمد بن احمد بن ابوبکر بن فَرْح انصاری خزرجی اندلسی قرطبی،

مترجمین اردو :۔          مولانا ملک محمد بوستان، مولانا سید محمد اقبال شاہ گیلانی، مولانا محمد انور مگھالوی، مولانا شوکت علی چشتی

اردو ترجمہ قرآنی :۔         پیر کرم شاہ الازہریالجامع الاحکام القرآن معروف بہ تفسیر قرطبی

ناشر :۔                  ضیاء القرآن پبلی کیشنز

زیر نظر نسخہ :۔            شائع شدہ اکتوبر 2012

 

تفسیر قرطبی  کا تعارف:۔

الجامع لاحکام القرآن جو تفسیر قرطبی کے نام سے معروف ہے ۔ اصل تفسیر عربی میں ہے ۔ یہ تفاسیر میں سے جلیل الشان تفسیر ہے کیونکہ یہ معانی القرآن کی وضاحت اور احکام کی تفصیل پر مشتمل ہے پھر اس پر مستزاد یہ کہ اس میں قراءات، اعراب، شعری شواہد، لغوی مباحث، نحوی اور صرفی نکات کا ذکر کیا گیا ہے۔ آپ کا اسلوب یہ ہے۔الجامع الاحکام القرآن معروف بہ تفسیر قرطبی

  • سورت کی فضیلت اور اس کے متعلق جو احادیث وارد ہوئی ہیں ان کا ذکر کرتے ہیں۔الجامع الاحکام القرآن معروف بہ تفسیر قرطبی
  • نزول کا سبب بیان کرتے ہیں۔ آیت کی تفسیر میں ایسی احادیث کا ذکر کرتے ہیں جو اس سے متعلق ہوں اور جو الفاظ جن لغوی معانی کا احتمال رکھتے ہیں ان کا ذکر کرتے ہیں۔ جبکہ اس بارے میں اشعارِ عرب سے تائید لاتے ہیں۔
  • آیت کے متعلقہ احکام فقہیہ کی وضاحت کرتے ہیں۔ ان میں ائمہ کا اختلاف ذکر کرتے ہیں اور ہر ایک کے دلائل لاتے ہیں۔
  • لفظ کے اشتقاق، باب اور اعراب کا ذکر کرتے ہیں ساتھ ہی بعض اوقات ائمہ لغت کے اقوال کو بیان کرتے ہیں۔
  • قراءات متواتر اور غیر متواترہ کا ذکر کرتے ہیں۔الجامع الاحکام القرآن معروف بہ تفسیر قرطبی

حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب علمی موسوعہ ہے۔ جس میں امام قرطبی (رح) نے مختلف علوم کو جمع کردیا ہے احکام القرآن کی تفصیل کی طرف خصوصی توجہ دی ہے، اسی پر کتاب کی بنیاد رکھی ہے اور اسے اسم بامسمی بنادیا ہے۔الجامع الاحکام القرآن معروف بہ تفسیر قرطبی

الجامع الاحکام القرآن معروف بہ تفسیر قرطبی

تفسیر قرطبی کے مصنف کا تعارف :۔

نام :۔

 امام محمد بن احمد بن ابوبکر بن فرح ابو عبداللہ انصاری، خزرجی، قرطبی، اندلسی، مالکی۔

آپ نے ابن رواج، ابن جمیزی، شیخ ابو العباس احمد بن عمر قرطبی صاحب المفہم، ابو علی حسن بن محمد، بن محمد بکری، حافظ اور ابوالحسن علی بن محمد بن علی بن حفص یحصبی وغیرہ سے اکتساب فیض کیا۔

آپ سے ان کے بیٹے شہاب الدین احمد وغیرہ نے اکتساب فیض کیا۔

امام ذہبی آپ کے بارے میں ذکر کرتے ہیں :۔الجامع الاحکام القرآن معروف بہ تفسیر قرطبی

 آپ مختلف فنون میں نہایت تامہ رکھنے والے اور علم میں متبحر امام ہیں۔ آپ کی بڑی مفید تصانیف ہیں جو آپ کے کثرت علم اور زیادتی فضل پر دال ہیں۔ آپ کی تفسیر کو شہرت نصیب ہوئی یہ تفسیر اپنے معنی میں کامل ہے۔ اس میں ایسی چیزیں ہیں جو آپ کی امامت، ذکاوت اور کثرت علم پر دال ہیں۔

ابن فرحون نے کہا :۔

 وہ اللہ تعالیٰ کے صالح بندوں، متقی عارف علماء دنیا میں زہد اختیار کرنے والے اور ان افراد میں سے تھے جو امور آخرت میں مصروف رہتے ہیں۔ آپ کے اوقات عبادت و تصنیف میں صرف ہوتے آپ نے تکلف کو دور پھینک رکھا تھا۔الجامع الاحکام القرآن معروف بہ تفسیر قرطبی

ابن عماد نے شذرات الذہب میں کہا : آپ حدیث کے معانی میں غواصی کرنے والے اور عمدہ تصنیف کے حامل تھے۔الجامع الاحکام القرآن معروف بہ تفسیر قرطبی

ابوعبدالله، محمد بن احمد بن ابوبکر بن فَرْح انصاری قرطبی کی تصانیف:۔

آپ کی مطبوعہ کتب یہ ہیں۔

۔1۔السنی فی شرح اسماء اللہ الحسنی وصفاتہ۔

۔2۔ الاعلام بما فی دین النصاری من الاوہام۔

۔3۔ التذکار فی افضل الاذکار

۔4۔ التذکرہ فی احوال الموتی وامور الاخرۃ

۔5۔قمح الحرص بالزہد والقناعۃ و رد ذل السوال بالکتب والشفاعۃ

۔6۔ الجامع لاحکام القرآنالجامع الاحکام القرآن معروف بہ تفسیر قرطبی

 

وصال:۔

آپ کا وصال مصر میں ،پیر کی رات نو شوال کو 671 ھ میں ہوا اور وہیں آپ کو دفن کیا گیا۔الجامع الاحکام القرآن معروف بہ تفسیر قرطبی

Please follow and like us:

Enjoy this ? Please spread the word :)