استنن حنانہ ( کھجور کا ستون ) کے بارے میں فارسی اشعار

استنن حنانہ  ( کھجور کا ستون ) کا واقعہ

مولائے روم ؒ نے استنن حنانہ  ( کھجور کا ستون ) کے واقعہ کو اپنے پیار بھرے اشعار میں بیان کیا ہے ۔

 

قارئین کی دلچسپی کے لئے استنن حنانہ  ( کھجور کا ستون )  کے بارے میں فارسی اشعار مع ترجمہ حاضر ہیں

استنن حنانہ  در ہجر رسول

نالہ میزد ہمچوں ارباب عقول

(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فراق میں استنن حنانہ  ( کھجور کا ستون ) انسانوں کی طرح رو دیا)

درمیان مجلس وعظ آنچناں

کزوے آگاہ گشت ہم پیرو جواں

(وہ استنن حنانہ  ( کھجور کا ستون ) اس طرح رویا کہ تمام اہل مجلس اس پر مطلع ہو گئے)

در تحیر ماند اصحاب رسولؐ

کزچہ مے نالد ستون باعرض و طول

(تمام صحابہ حیران ہوئے کہ یہ استنن حنانہ  ( کھجور کا ستون ) کس سبب سے سر تا پا محو گریہ ہے)

گفت پیغمبر چہ خواہی اے ستون

گفت جانم از فراقت گشت خوں

(آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے استنن حنانہ  ( کھجور کا ستون ) تو کیا چاہتا ہے ۔ اس نے عرض کیا میری جان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فراق میں خون ہو گئی ہے۔)

از فراق تو مراچوں جان سوخت

چوں ننالم بے تو اے جان جہاں

(اے جان جہاں! آپ کے فراق میں تو میری جان نکل گئی ۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فراق میں کیوں نہ روؤں)

مسندت من بودم از من تاختی

برسر منبر تو مسند ساختی

(پہلے میں ( استنن حنانہ  ( کھجور کا ستون ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسند تھا۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کنارہ کش ہو کر منبر کو مسند بنا لیا)

پس رسولش گفت اے نیکو درخت

اے شدہ باسر تو ہمراز بخت

گرہمے خواہی ترا نخلے کنند

شرقی و غربی ز تو میوہ چنند

(آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  اے وہ درخت جس کے باطن میں خوش بختی ہے اگر تو چاہے تو تجھ کو پھر ہری بھری کھجور بنا دیں۔ حتی کہ مشرق و مغرب کے لوگ تیرا پھل کھائیں)

یادراں عالم حقت سروے کند

تا ترو تازہ بمانی تا ابد

یا اللہ تجھے اگلے جہاں بہشت کا سرو بنا دے اور تو پھر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ترو تازہ رہے۔

گفت آن خواہم کہ دائم شد بقاش

بشنو اے غافل کم از چوبے مباش

(استنن حنانہ  ( کھجور کا ستون ) نے عرض کیا میں وہ بننا چاہتا ہوں جو ہمیشہ رہے ۔ اے غافل تو بھی بیدار ہو اور ایک خشک لکڑی سے پیچھے نہ رہ جا۔)

 

     یعنی جب ایک لکڑی استنن حنانہ  ( کھجور کا ستون ) دار البقاء کی طلب گار ہے تو انسان کو تو بطریق اولیٰ اس کی خواہش اور آرزو کرنی چاہئے۔

ان ستون را دفن کرد اندرز مین

کو چومردم حشر گرد یوم دیں

(اس استنن حنانہ  ( کھجور کا ستون ) کو زمین میں دفن کر دیا گیا۔  قیامت کے دن اسے انسانوں کی طرح اٹھایا جائے گا)

(مثنوی مولائے روم مع شرح مفتاح العلوم – ۳ = ۷۸-۸۰)

 

استنن حنانہ

 


  ماخوذ از کتاب:  مشتاقان جمال نبوی کی کیفیات جذب و  مستی

مصنف :   بدر المصنفین شیخ الحدیث محقق العصر حضرت مولانا مفتی محمد خان قادری(بانی ، جامعہ اسلامیہ لاہور)۔

Please follow and like us:

One thought on “استنن حنانہ ( کھجور کا ستون ) کے بارے میں فارسی اشعار

Enjoy this ? Please spread the word :)